غداری کیس میں پرویز مشرف کے خلاف فرد جرم عاید

بیرون ملک جانے کی اجازت کا فیصلہ دو بجے متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی تاریخ کے غیر معمولی مقدمے ''غداری کیس'' میں آج پیر کے روز اس وقت بامعنی پیش رفت سامنے آئی جب ملزم پرویز مشرف نے پولیس کی حراست میں عدالت میں پیش ہونے کے بجائے خود پیش ہونے کو ترجیح دی۔ اس موقع پر تین رکنی خصوصی عدالت کی خاتون رکن جسٹس طاہرہ صفدر نے فرد جرم پڑح کر سنائی، تاہم ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا اور کہا ان کے خلاف غداری کا الزام نامناسب ہے۔

پیر کے روز کارروائی شروع ہونے سے پہلے عدالتی حکم کے مطابق ملزم کی گرفتاری کیلیے پولیس پارٹی ایک ایس پی کی قیادت میں تیار تھی، سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ دو ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ خصوصی عدالت کے اردگرد بھی غیر معمولی سکیرٹی حصار قائم کیا گیا تھا جبکہ ملزم کی بحفاظت عدالت میں پہنچ یقینی بنانے کیلیے چار مختلف روٹس مقرر کیے گئے تھے۔

سابق فوجی سربراہ اور سابق صدر پرویز شرف عدالت میں پیش ہوئے تو ان کے وکلا کی ٹیم ان کے ہمراہ نہ تھی، البتہ معروف وکیل بیرسٹر فروغ نسیم ملزم کے ہمراہ تھے۔ ملزم کی آمد پر جسٹس طاہرہ صفدر نے فرد جرم پڑھ کر سنائی۔ ملزم نے جرم کا انکار کیا۔ ملزم کے وکیل فروغ نسیم نے اس موقع پر کہا ان کے موکل پر فرد جرم بھلے عاید کی جائے تاہم ملزم کو اپنی والدہ کی تیمار داری کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ ملزم کی والدہ سخت علیل ہیں۔

واضح رہے وکیل استغاثہ اکرم شیخ نے پرویز مشرف کے باہر جانے کی اجازت دیے جانے کی مخالفت نہیں کی ہے۔ خصوصی عدالت اس بارے میں دو بجے کے بعد خصوصی عدالت اس حوالے سے حکمنامہ جاری کرے گی کہ آیا پرویز مشرف کو والدہ کی تیمارداری کیلیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

ملزم پرویز مشرف نے اس موقع پر اپنے خلاف غداری کے الفاظ استعمال کرنے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ''میں نے بطور صدر اور آرمی چیف ملک کی خدمت کی ہے۔'' ملزم کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاء صفائی میں سے کوئی بھی عدالت میں موجود نہ تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ ان وکلاء نے عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کے سامنے پیش نہ ہونے کی حکمت عملی کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق فوجی سربراہ پر نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی لگانے کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی جاری ہے تاہم ملزم کے عدالت میں پیش ہونے سے گریز پر مبنی پالیسی کی وجہ فرد جرم تین ماہ بعد ممکن ہو سکی ہے۔ ملزم کے وکلا عدالت کی تشکیل اور ججوں کی غیر جانبداری کو چیلنج کرتے رہے ہیں تاہم ان کی اس بارے میں درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں