.

طالبان نے جنگ بندی میں 10 روز کی توسیع کر دی

حکومت نے 19 طالبان قیدی رہا کیے، کمیٹیوں کا اجلاس متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان پچھلے کئی دن سے مذاکراتی عمل میں سست رو ہونے کی اطلاعات کے بعد دونوں اطراف سے جزوی طور پر مثبت پیش رفت سامنے آگئی ہے۔ حکومت کی جانب سے تین مراحل میں رہا کیے گئے 19 طالبان کے بعد تحریک طالبان نے بھی جنگ بندی میں دس دن کی توسیع کر دی ہے۔

اس کے ساتھ ہی حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کیلیے ہفتے کے روز اجلاس بلانے کے خبر آگئی ہے۔ جبکہ طالبان شوری نے دس اپریل کے بعد دونوں طرف سے ہونے والی پیش رفت اور امن مذاکرات کے مسقبل کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیاہے۔

واضح رہے طالبان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ معاملات کو آگے بڑھانے اور طالبان کے مطالبات پر عمل دارآمد میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔

طالبان ترجمان مزید کہا کہ حکومت نے ماہ مارچ کے دوران مذاکرات کا پہلا براہ راست دور ہونے کے بعد تین اقساط میں 19 طالبان رہا کیے ہیں۔ یہ طالبان بالترتیب تین ، پانچ اور گیارہ کی تعداد 21 مارچ، 25 مارچ اور 28 مارچ کو رہا کیے گئے ہیں۔ لیکن طالبان رہائیوں سے متعلق اپنے مطالبے کی جزوی پذیرائی پر مطمئن نہیں ہیں۔ جوابا انہوں نے جنگ بندی میں غیر معینہ توسیع کے حکومتی مطالبے کے جواب میں صرف دس دن کیلیے توسیع کی ہے۔

ایک حکومتی مشیر عرفان صدیقی نے اس صورتحال میں کہا ہے کہ '' طالبان کی طرف سے وزیرستان میں امن زون قائم کرنے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ '' تاہم دس دن کیلیے جنگ بندی میں توسیع کے بعد یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور اگلے چند دنوں میں ممکن بنا لیا جائے گا۔

حکومت پاکستان میں اعلی ترین سطح پر طالبان سے مذاکراتی عمل کی نگرانی کی جارہی ہے۔ البتہ وزیر اعظم سیکرٹیڑیٹ نے اس تاثر کو ابھرنے سے روکنے کی کوشش کی ہے کہ رہا کیے گئے طالبان وزیر اعظم میاں نواز شریف کے براہ راست حکم سے کیے گئے ہیں۔ اپوزیش جماعت پیپلز پارٹی نے مذاکرات پر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد لینے کا مطالبہ کیا ہے۔