.

پرویز مشرف کا قافلہ گزرنے سے چندے قبل بم دھماکا

کسی گروپ نے سابق صدرپر مبینہ قاتلانہ بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی تاریخ میں سنگین غداری کے مقدمے کا سامنا کرنے والے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ بم حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن یہ بم ان کے قافلے کی آمد سے چندے قبل ہی پھٹ گیا اور وہ محفوظ رہے ہیں۔

پرویز مشرف کو جمعرات کو راول پنڈی میں واقع مسلح افواج کے اسپتال سے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں ان کے فارم ہاؤس میں منتقل کیا جارہا تھا۔ان کے راستے میں پڑنے والے فیض آباد انٹرچینج میں بم نصب کیا گیا تھا لیکن سکیورٹی اہلکاروں کے قافلے کی معیت میں سابق صدر کی آمد سے قبل ہی یہ بم پھٹ گیا اور اس سے کوئی شخص زخمی نہیں اور نہ کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

ایک سینیر پولیس افسر لیاقت نیازی کا کہنا ہے کہ چارکلوگرام دھماکا خیز مواد ایک پل کے نیچے ایک پائپ لائن میں نصب کیا گیا تھا لیکن اس جگہ پر سابق صدر کی گاڑی کی آمد سے قریباً بیس منٹ قبل ہی بارود دھماکے سے پھٹ گیا۔اس واقعہ کے بعد سابق صدر کو ایک متبادل روٹ کے ذریعے ان کے شاہانہ فارم ہاؤس میں بحفاظت پہنچا دیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان محمد نعیم نے اس دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو کلئیر کردیا ہے۔ترجمان کے بہ قول اس بم کے ذریعے پرویزمشرف ہی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔واضح رہے کہ ان پر یہ چوتھا قاتلانہ حملہ تھا۔ان کے دور صدارت میں ان پر تین حملے کیے گئے تھے لیکن وہ ان میں محفوظ رہے تھے۔

ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف 3نومبر2007ء کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ ،آئین معطل کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظربند کرنے کے اقدامات پر آئین کی دفعہ چھے کے تحت تین رکنی خصوصی عدالت میں سنگین غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے اور اس مقدمے میں ان پر فرد جرم عاید کی جاچکی ہے۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ آئین توڑنے پر کسی فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

ستر سالہ سابق صدر 2 جنوری سے راول پنڈی میں واقع آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج تھے اور وہ اسی ہفتے پہلی مرتبہ عدالت کے بار بار کے انتباہ کے بعد پیش ہوئے تھے جہاں ان کے خلاف فرد جرم عاید کردی گئی لیکن انھوں نے اس کی صحت سے انکار کیا ہے۔

اس دوران دبئی میں مقیم ان کی والدہ کے علیل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ طبی وجوہ کی بنا پر سابق صدر کی پاکستان سے متحدہ عرب امارات رخصتی ہوسکتی ہےلیکن اب تک فوج یا حکومت کی جانب سے ایسے کوئی اشارے نہیں دیے گئے جس سے یہ ظاہر ہو کہ سابق فوجی صدر کو بیرون ملک روانہ کیا جارہا ہے۔

ان کا نام وزارت داخلہ کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہے اور وہ حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جا سکتے لیکن حکومت نے اگلے روز ہی ان کا نام اس فہرست سے خارج کرنے سے انکار کردیا ہے۔اس پر انھوں نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ غداری ایکٹ مجریہ 1973ء کے تحت چلایا جارہا ہے۔اس کے تحت انھیں عمر قید یا موت کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔آئین کی دفعہ چھے میں بھی اس سنگین جرم کی یہی سزا مقرر ہے۔ان کے خلاف اس مقدمے کی سماعت تین رکنی خصوصی عدالت کررہی ہے۔اس کے سربراہ عدالتِ عالیہ سندھ کے جج جسٹس فیصل عرب ہیں۔عدالتِ عالیہ لاہور کے جج یاور علی خان اور بلوچستان ہائی کورٹ کی خاتون جج طاہرہ صفدر اس کی رکن ہیں۔

ان کے خلاف اس سے پہلے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی دسمبر 2007ء میں بم دھماکے میں ہلاکت سمیت چار فوجداری مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ان چاروں مقدمات میں ان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے اور عدالت نے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔