.

بلوچستان:پاکستانی فورسز کی کارروائی میں 30 جنگجوہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے دو اضلاع قلات اور خضدار میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تیس سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

پیراملٹری فورس فرنٹئیر کور کے ترجمان خان واسع نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''فورسز نے ضلع قلات کے علاقے پاروڈ میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے۔اس میں تیس سے زیادہ شرپسند مارے گئے ہیں اور ان کی چھے گاڑیوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے''۔

عسکری حکام کے مطابق شرپسندوں کے خلاف اس کارروائی میں سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے اور انھیں مقامی انتظامیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔جھڑپوں میں دس سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ایف سی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ جن شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے،وہ صوبے کے مختلف حصوں میں مسافر ٹرینوں ،سکیورٹی فورسز اور دوسری اہم تنصیبات پر حالیہ حملوں میں ملوث تھے۔

صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جنگجوؤں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود،راکٹ لانچرز ،دستی بم اور دوسرے ہتھیار برآمد کیے ہیں۔علاقے میں صورت حال بہت کشیدہ ہے اور سکیورٹی فورسز اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے اضلاع قلات ،خضدار اور تربت کے بعض علاقوں میں مسلح بلوچ گذشتہ قریباً ایک عشرے سے محدود پیمانے پر علاحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں۔وہ آئے دن گیس کی تنصیبات ،پائپ لائنوں ،سکیورٹی فورسز اور مسافر ٹَرینوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان پڑوسی ملک بھارت پر خفیہ طور پر بلوچ جنگجوؤں کی مالی واسلحی امداد کے الزامات عاید کرتا رہتا ہے لیکن بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔بلوچ جنگجو اپنی مسلح کارروائیوں کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ان کے صوبے سے نکلنے والی گیس سے دوسرے علاقے استفادہ کررہے ہیں اور پاکستان کی مرکزی حکومت ان کے صوبے کے وسائل کو تو حاصل کررہی ہے لیکن صوبے کی تعمیروترقی اور پسماندگی دور کرنے پر توجہ مرکوز نہیں کررہی ہے۔