سبی میں جعفرایکسپریس میں دھماکا، آٹھ مسافر جاں بحق

بلوچستان میں عام شہری دہشت گردوں کے حملوں کا آسان ہدف بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کی حالیہ مہینوں کی سب سے بڑی کارروائی کے اگلے ہی روز دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو سبی ریلوے سٹیشن پر بم حملے میں نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے ایک روز قبل ضلع قلات میں مسلح دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔اس میں کم سے کم چالیس جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ایران سے جڑے صوبہ بلوچستان میں پچھلے تقریباً سات سال سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور ان کارروائیوں کے روح رواں کمانڈر مغربی ممالک میں خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔ سکیورٹی فورسز ان دہشت گرد گروہوں سے وابستہ شرپسندوں اور ان کے فراری کیمپوں کو نشانہ بناتی ہیں لیکن دہشت گردوں کا بالعموم آسان ہدف سویلین ہوتے ہیں۔

سویلنز کو نشانہ بنانے کے پہلے مرحلے پر ان دہشت گرد گروپوں نے نسلی بنیادوں پر غیر بلوچ شہریوں کو سینکڑوں کی تعداد میں ہلاک کیا اور اب دوسرے مرحلے پر پچھلے کچھ برسوں سے وہ بلوچ ان کا نشانہ ہیں جو دہشت گردی کے خلاف ہیں اور پاکستان کے ساتھ گہری محبت رکھتے ہیں۔وہ خضدار شہر میں میر غلام رسول حسنی اور ان کے بیٹے میرغیاث حسنی سمیت کئی افراد خانہ کو قتل کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچ اساتذہ اور بلوچ صحافیوں کو یہ دہشت گرد دسیوں کی تعداد میں قتل کر چکے ہیں۔

منگل کے روز جعفر ایکسپریس صبح نو بجے کے قریب کوئٹہ سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی اور ایک سو پچاس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے سبی پہنچی۔ جعفر ایکسپریس ابھی سبی ریلوے سٹیشن پر کھڑی تھی کہ دہشت گردوں نے دھماکا کر دیا۔ دھماکے سے ممتاز بلوچ رہنما جعفر خان جمالی کے نام سے منسوب اس ٹرین کی تین بوگیوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

دھماکے سے ٹرین پر سوار آٹھ مسافر جاں بحق اور کم سے کم چالیس زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے وقت ان بوگیوں میں قریبا 80 مسافر تھے۔ دھماکے کے ساتھ ہی بوگیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ٹرین دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد لگ بھگ ایک درجن ہے۔ خیال رہے اس سے پہلے جعفر ایکسپریس کو اگست 2013 اور نومبر 2013 میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ہدف بنایا گیا تھا۔

دہشت گرد،جنہیں مبینہ طور پر غیر ملکی امداد حاصل ہے،ریل گاڑیوں کے علاوہ گیس پائپ لائنوں اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کو نقصان پہنچانے کے لیے دھماکے اور کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ تاہم اس دھماکے کی کسی دہشت گرد گروپ نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے جعفر ایکسپریس پر بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سکیورٹی فورسز کی کل کی کارروائی کے بعد دہشت گردوں کا رد عمل بھی ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں