.

پاکستانی عسکری ماہرین 11 ہزار کویتی فوجیوں کو تربیت دیں گے

کویت کا اسلام آباد میں دفاعی آفس کھولنے کا اعلان: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی حکومت نے اسلام آباد میں اپنے سفارت خانے کے تحت دفاعی آفس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے ممبران میں سے کویت چوتھا ملک ہو گا جو اسلام آباد میں اپنا عسکری دفتر کھول رہا ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور سلطنت آف اومان کے دفاعی اتاشی پاکستان میں کام کر رہے ہیں جبکہ بحرین اور قطر کے دفاعی اتاشی نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان میں متعین کویتی سفیر اپنے وطن جا چکے ہیں تاکہ کویتی قیادت کے ساتھ تفصیلی مشاورت کر سکیں کیونکہ کویت نے پاکستان کے ساتھ کئی شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کویت نے چھے سال قبل پاکستان پر ویزے کی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بعد افرادی قوت کو کویت بھجوانے کا سلسلہ کم ترین سطح پر ہے۔

موقر روزنامہ 'جنگ' نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تعلقات کی اس نئی جہت کی اہمیت زیادہ ہے، پہلے ہی ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد پاکستانی کویت کی ترقی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کویت آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان سے ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں کارروائی کا آغاز آئندہ ماہ شروع ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی کویت پاکستان کے دفاعی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے تاکہ وہ اپنی فوج کے 11 ہزار سے زائد فوجیوں کو تربیت دے سکے۔ کویتی فوجیوں کی تربیت کیلئے پاکستان کے ریٹائرڈ فوجیوں اور تربیت کاروں کی بطور عسکری ماہر خدمات حاصل کی جائیں گی اور سفارت خانے کا دفاعی ونگ ان ماہرین کے انتخاب میں کردار ادا کرے گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کویت کی جانب سے پاکستان کیلئے ویزا پابندیوں میں نرمی کے بعد کویت پاکستان سے ہنر مند افراد کی خدمات بھی حاصل کرے گا۔ افرادی قوت کی اس برآمد سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہو گی اور زر مبادلہ کے ذخائر کی صورتحال بھی بہتر ہو گی۔