.

نوماہ کے بچے پر بنایا گیا اقدام قتل کا مقدمہ ختم

کمسن کیخلاف مقدمہ بنانے کی تحقیقات ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتی تاریخ کے انوکھے مقدمہ اقدام قتل میں نوماہ کے ننھے بچے کو ملوث کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے بچے کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے بچے کا نام مقدمے سے خارج کرتے ہوئے اس امر کا جائزہ لینے کا بھی حکم دیا ہے کہ پولیس نے عدیم المثال کارنامہ کیسے انجام دیا اور شیرخوار کو قتل کی کوشش کرنے والا ثابت کرنے کا اہتمام کیوں کیا۔

تفصیلات کے مطابق نوماہ کے بچے محمد موسی کو مقدمہ اقدام قتل میں ملوث کرنے کا سبب یہ بنایا کہ شہر لاہور ایک غریب طبقے کی آبادی میں محمد موسی کے اہل خانہ کا سوئی گیس کے عملے کے ساتھ تصادم تھا۔ پولیس نے اس تصادم کے بعد پورے خاندان کےخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔

مقدمے میں نو ماہ کے بچے کا نام آنے پر میڈیا کی توجہ مبذول ہونا فطری تھا۔ جس سے پاکستان میں قانون و انصاف کی صورت حال سامنے آئی۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر بچے کا رونا اور اس کے دادا کی طرف سے اس کے لیے فیڈر کا بندوبست کرنا عدالتی کارروائی کے دوران اہم رہا۔

بعد ازاں یہ مناظر تصویری شکل میں منظر عام پر آ گئے۔ اس صورتحال میں مقدمہ درج کرنے والے انسپیکٹر کاشف محمد کو معطل کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستانی قوانین کے بھی یہ مقدمہ منافی تھا، ہفتے کے روز پولیس نے عدالت کو بتایا کہ نو ماہ کے بچے کا نام اب اقدام قتل کے مقدمہ میں شامل نہیں رہا ہے۔

عدالت کی طرف سے مقدمہ باضابطہ طور پر ختم ہو جانے کے بعد محمد موسی کے دادا محمد یاسین نے اپنے پوتے کی طرف سے دائر کردہ درخواست ضمانت واپس لے لی۔ محمد یاسین نے پولیس پر الزام عاید کیا ہے کہ پولیس نے ان کے مخالفین کے ساتھ ملی بھگت سے مقدمہ بنایا ہے۔