.

بھکر:آدم خور بھائی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

دوسرا بھائی بھی گرفتار،انسانی لاشوں کا گوشت کھانے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر میں انسانی لاشوں کو پکا کر کھانے کے الزام میں گرفتار کیے گئے دو بھائیوں کو ڈویژنل صدر مقام سرگودھا میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور عدالت نے انھیں سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

قبل ازیں منگل کو پولیس نے انسانی لاشیں کھانے کے الزام میں دوسرے بھائی محمد فرمان کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔اس کے گھر سے دو بچوں کے سر برآمد ہوئے تھے جن کا وہ گوشت پکا کر کھا گیا تھا۔گذشتہ روز اس کے بڑے بھائی محمد عارف کو بھکر کے قصبہ دریاخان کے نزدیک واقع گاؤں کہواڑ کلاں سے اسی الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن فرمان بھاگ گیا تھا۔

عارف نے ابتدائی تفتیش کے دوران ایک مُردہ بچے کا گوشت کھانے کا اعتراف کیا ہے اور پولیس کو بتایا ہے کہ اس کی لاش قبرستان سے اس کا بھائی چُرا کر لایا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان دونوں بھائیوں نے مقامی قبرستان میں ایک سو قبروں کو کھود کر ان میں تازہ دفن کی گئی لاشوں کو نکالا تھا اور ان کا گوشت پکا کر کھا گئے تھے۔

بھکر پولیس نے ان آدم خور بھائیوں کے خلاف انسانی لاش کی بے حرمتی اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے کیونکہ تعزیرات پاکستان میں انسانی لاش کو پکا کر کھانے کے جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں ہے۔تین سال قبل ان پر انہی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں صرف دو، دوسال قید کی سزا ہوئی تھی۔وہ گذشتہ سال ہی یہ سزا کاٹنے کے بعد رہا ہوئے تھے۔

دریا خان سے تعلق رکھنے والے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن صوبائی اسمبلی نجیب اللہ خان نے حکومت سے میتوں کی اس طرح بے حرمتی اور مُردوں کا گوشت کھانے کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

سوموار کو ان دونوں بھائیوں کی دوبارہ آدم خوری کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد گاؤں میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے اور گاؤں کے مکین اپنے پیارے مرحومین کی میتوں کی قبور میں موجودگی کا یقین کرنے کے لیے قبرستان کا رُخ کر رہے ہیں۔