نواز زرداری ملاقات، مشکل وقت میں اکٹھے رہنے کا عزم

جمہوری تسلسل، غداری کیس، طالبان اور تحفظ پاکستان بل زیر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور سیاسی میدان میں سب سے بڑے حریف سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان رواں سال کی اہم ترین سیاسی ملاقات میں ملک میں جمہوری استحکام کیلیے سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین نے جمہوریت کیلیے کسی خطرے کی صورت میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا یقین دلایا ہے۔ اس ملاقات کو وزیر اعظم کی طرف سے ماہ نومبر میں مقرر کیے گئے نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ایک حالیہ بیان اور حکومتی اور عسکری قیادت کی سطح پر اختلافات کی بازگشت کے ماحول میں جہوری حوالے سے علامتی ملاقات کہی جا رہی ہے۔

پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اعلی ترین سطح پر یہ ملاقات بدھ کے روز وزیر اعظم ہاوس میں ہوئی ہے۔ جہاں آصف علی زرداری سکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر ہیلی کاپٹر پر اپنی تین رکنی ٹیم کے ساتھ پہنچے تھے۔ ملاقات میں وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی معاونت ان کے معاونین نے کی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ملاقات دو مرحلوں پر مشتمل تھی ۔ پہلے مرحلے پر دونوں سیاسی قائدین نے اپنے معاونین کی موجودگی میں دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

ملاقات کے دوسرے مرحلے پر وزیر اعظم میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقات میں ون آن ون بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ملک کو درپیش چیلنجوں خصوصا جمہوریت کیلیے مشکلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ملک میں جمہوری استحکام کیلیے سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ جمہوری تسلسل کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں کی باہمی مفادات اور دلچسپی کے معاملات پر بات چیت کے تناظر میں بنیادی طور پر جمہوریت کے استحکام کیلیے مشترکہ کوششوں، طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل، پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس اور تحفظ پاکستان بل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

وزیر اعظم نے ملک میں جمہوری بقا کے حوالے سے 2007 میں دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اسے مکمل طور پر تقویت دینے کے ماحول کو پہلے سے طے پانے والے اتفاق رائے کو عملی طور پر جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ جس پر سابق صدر نے بھرپور تعاون کا عندیہ دیا اور کہا اگر کسی وقت جمہوریت کیلیے کوئی کڑا وقت ہوا تو ان کی جماعت حکومت کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

وزیر اعظم نے اپنی ٹیم کے ذریعے پیپلز پارٹی کی قیادت کو حکومت کے اقتصادی شعبے کے اقدامات، مشکلات اور صوبوں کے ساتھ تعاون کی ترجیحات کے بارے میں بریف کیا ، جبکہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل سے بھی آگاہ کیا اور مشرف غداری کیس کے بارے میں حکومتی پوزیشن واضح کی ۔ نیز ملک میں امن و امان اور استحکام کے لائے جانے والے تحفظ پاکستان بل کے بارے میں بھی کوششوں سے آگاہ کیا۔

سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں جانب سے جمہوری عمل کے لیے پختہ عزم کا اظہار کیا گیا، تاہم یہ بات حیران کن رہی کہ میاں نواز شریف کی مرضی کی عسکری قیادت کے باوجود ایسا ماحول اس قدر جلدی کیوں بن گیا ہے جسے جمہوری اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات کی باتیں زبان زدعام ہیں۔

واضح رہے اس سے قبل میاں نواز شریف بطور وزیر اعظم پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ہونے والی اس اہم ترین ملاقات کے بعد سابق صدر آصف علی زداری کے وفد کے رکن سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا سے بات چیت کرت ہوئے کہا '' انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے جس میں ملک کی مجموعی صورت حال اور چیلنجوں پر غور کیا گیا ہے۔ '' ان کا کہنا تھا تقریبا ہر اہم موضوع پر بات ہوئی ہے۔ اس میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جاری حکومتی مذاکرات پر بھی بات کی گئی۔ '' سینیٹر رضا ربانی نے کہا '' اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والی خود مختاری بھی زیر بحث آئی اور صوبہ سندھ کو بعض حوالوں سے جن مشکلات کا سامنا ہے انہیں دور کرنے پر بھی غور کیا گیا ، یہ امور محکمہ خزانہ سے متعلق ہیں۔''

ایک سوال کے جواب میں کہا '' یہ ایک علامتی ملاقات تھی جس میں جمہوری قوتوں کے ملکر چلنے اور آگے بڑھنے، آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کے استحکام اور تحفظ پاکستان بل پر تبادلہ خیال کیا گیا، یہ بھی طے پایا ہے کہ زاہد حامد اپوزیشن جماعتوں کو اس بارے میں اعتماد میں لیں گے اور بہتری کیلیے مشترکہ تجاویز تیار کی جائیں گی۔'' رضا ربانی کا کہنا تھا ہم جمہوری حوالے سے ایک عبوری دور سے گذر رہے ہیں، اس مرحلے پر جمہوری اداروں اور آئین کی بالا دستی کو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہمارا واضح اور دوٹوک موقف ہے کہ وفاق پاکستان کی بقاء جمہوری عمل اور آئینی بالا دستی میں ہے۔''

پیپلز پارٹی کے رہنما نے دوٹوک کہا کہ''اگر کبھی ایسا وقت آِیا جس میں جمہوریت کو خطرہ ہوا تو ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔'' طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا اے پی سی میں پی پی پی شامل ہوئی تھی ، اسی اے پی سی کے فیصلوں کے ہم آج بھی ساتھ ہیں، البتہ جہاں جھول محسوس کرتے ہیں اس کی نشان دہی کرتے ہیں اور یہ نشاندہی آئندہ بھی کرتے رہیں۔ سلمان تاثیر کے مغوی بیٹے اور مشرف کیس کی تفصیل میں جانے سے انہوں نے گریز کیا، تاہم کہا مجموعی طور پر ہر موضوع پر بات کی گئی ہے۔ ''انہوں نے کہا ''کی آئین سے کوئی شخص بالا تر نہیں ہے، آئین اور قانون ہر فرد سے بالاتر ہے۔ ''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں