.

پاکستانی صحافی حامد میر قاتلانہ حملہ میں زخمی

حامد میر نے حملے کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے ممتاز ٹی وی اینکر اور اسامہ بن لادن کے انٹرویو سے عالمی سطح پر شہرت پانے والے حامد میر کو آج شام نامعلوم حملہ آوروں نے کراچی میں گولی مار کر زخمی کر دیا ہے۔ حامد میر شام کو ہی کراچی پہنچے تھے۔ کراچی ائِر پورٹ سے نکل کر وہ جیو آفس کی طرف جا رہے تھے کہ انہیں مبینہ طور پرنامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

حامد میر کے بھائی عامر میر نے یہ انکشاف کیا ہے کہ'' حامد میر اس سے پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ ان پر کوئی حملہ ہوا تو اس کے ذمہ دار پاکستان کے حساس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ اور دوسرے افسران ذمہ دار ہوں گے۔'' ان کے بھائی نے یہ بھی بتایا کہ حامد میر کو کسی دہشت گرد گروپ سے نہیں آئی ایس آئی سے خطرہ ہو سکتا ہے۔''

خیال رہے حامد میر نے کچھ عرصہ قبل بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد سے اپنے والد کی قیام بنگلہ دیش کیلیے خدمات کے اعتراف کا ایوارڈ حاصل کیا تھا جبکہ حامد میر علیحدگی پسند بلوچ تنظیم کالعدم بی ایل اے کے پسندیدہ صحافیوں میں شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات کے مطابق حامد میر جس گاڑی پر سوار تھے یہ گاڑی ائیر پورٹ تھانے کے قریب شاہراہ فیصل پر تھی کہ اس اہم شاہراہ پر قائم پہلے پل کے ساتھ ہی دائیں جانب مڑنے کے دوران مبینہ طور پر شلوار قمیض میں ملبوس ایک شخص نے ان کی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔

حامد میر کو دفتر لے جانے والی گاڑی کے ڈرائیور کا کہنا ہے کہ حملہ آور پہلے سے اس جگہ پر کھڑا تھا جس نے ٹی ٹی سے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ ہوتے ہی ڈرائِیور کے بقول اس نے گاڑی تیز کر دی اور گاڑی کو فائرنگ کی زد سے نکال لیا۔ ان کی گاڑی کا ڈرائیور مکمل محفوظ رہا ہے۔ مبینہ طور پر اس واقعے میں ایک سے زائد حملہ آور تھے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ حملے میں موٹر سائیکل اور ایک گاڑی پر سوار مسل افراد نے حملہ کیا اور دور تک گاڑی کا دور تک تعاقب کیا۔

واضح رہے کراچی میں پچھلے کئی ماہ سے رینجرز اور پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے، لیکن اس کے باوجود ائیر پورٹ کے قریب تر اور پولیس تھانے کے پاس ہی حامد میر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ ایک نوجوان صحافی ولی خان بابر کو اسی کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔

حامد میر پاکستان کے ان صحافیوں میں سے ایک ہے جن کو متعدد بار مبینہ طور پر دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ 2012 میں اسلام آباد میں ان کی گاڑی کے ساتھ نامعلوم افراد نے بم باندھ دیا تھا۔ حامد میر پاکستان سے باہر بیروت کے خطرناک ماحول سے بھی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔

طبی ذرائع کے مطابق انہیں تین گولیاں لگی ہیں، تاہم واقعے کے بعد ایک گھنٹے سے زائد گذرنے کے باوجود پولیس جائے وقعہ کا تعین نہیں کر سکی ہے۔ یہ بھی تعین کرنا فوری طور پر مشکل ہے حامد میر کس کے غضب کا نشانہ بنے ہیں۔ کراچی پولیس کے اعلی افسر شاہد حیات نے بتایا ہے کہ حامد میر کو تین گولیاں لگی ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ممتاز صحافی افتخار احمد کا اس واقعہ کے بارے میں کہا '' یہ ریاست کے لیے شرم کی بات ہے۔، سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کا کیا امیج بنانا چاہتے ہیں۔ ''

واضح رہے کراچی میں پچھلے کئی ماہ سے رینجرز اور پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے، لیکن اس کےباوجود ائیر پورٹ کے قریب تر اور پولیس تھانے کے پاس ہی حامد میر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔