.

حامد میر پر حملہ: تحقیقاتی کمیشن کے لیے تین جج نامزد

حملہ آوروں سے متعلق معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چیف جسٹس آف پاکستان،جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے حکومت کی درخواست پر معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ کے تین جج صاحبان کوتحققیاتی کمیشن کا رکن نامزد کردیا ہے۔

اس اعلیٰ عدالتی کمیشن میں جسٹس انور ظہیر جمالی ، جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس اقبال حمید الرحمان شامل ہوں گے۔قبل ازیں وزیراعظم میاں نواز شریف نے کراچی میں سوموار کو آغاخان یونیورسٹی اسپتال میں زیرعلاج سینیر صحافی حامد میر کی عیادت کی۔

ان پر کراچی میں ہفتے کے روز ہوائی اڈے سے جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے دفتر کی جانب جاتے ہوئے موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی۔انھیں تین گولیاں لگی تھیں اور وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ان کے بھائی صحافی عامر میر نے ملک کی طاقتور خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا۔

اسلام آباد میں اتوار کو وزیراعظم میاں نوازشریف کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں حامد میر پر قاتلانہ حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔اس کے بعد وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واقعہ کی تحقیقات کے لیے تین رکنی عدالتی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا اور اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سے تین جج نامزد کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔حکومت نے حملہ آوروں سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔

حامد میر جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں محدود پیمانے پر علاحدگی پسندی اور جنگ پسندی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں عام افراد کو غائب کیے جانے پر خفیہ ایجنسیوں اور فوج پر تنقید کرتے رہے ہیں۔اسی بنا پر عامر میر نے آئی ایس آئی پر اس حملے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے زخمی بھائی کو اس سے قبل دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے سینیر صحافی اور اینکرپرسن پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔اس ضمن میں آئِی ایس آئی پر عاید کردہ الزامات کو بے بنیاد قراردے کر مسترد کردیا ہے اور واقعہ کی آزادانہ تحقیقات پرزوردیا ہے۔

درایں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حامد میر پر حملے میں اپنے جنگجو گروپ کے کسی کے کردار کی تردید کی ہے۔انھوں نے زخمی صحافی کو سیکولر اور ملالہ یوسف زئی پر 2012ء میں حملے کے بعد طالبان کے خلاف ایک فعال پروپیگنڈے باز قراردیا ہے۔

حامد میر جیو ٹیلی ویژن چینل سے نشر ہونے والے اپنے مقبول ٹاک شو کیپٹل ٹاک اور اخبار جنگ میں شائع ہونے والے کالم میں صوبہ بلوچستان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں جنگ پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور انھیں غائب کیے جانے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔وہ سابق صدر پرویز مشرف کے بھی شدید ناقد ہیں اور ان کے دور حکومت میں بھی ان کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے رہے تھے جس کی پاداش میں مشرف حکومت نے ان کا ٹی وی پروگرام بند کردیا تھا۔

لیکن ان پر حملے کے بعد ان کے بھائی اور ادارے کی جانب سے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل ظہیرالاسلام پر براہ راست الزام تراشی پر بعض صحافیوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک بلاتحقیق اور بلاثبوت بچگانہ حرکت قراردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک کے قومی اداروں کا احترام کیا جانا چاہیے اور اس طرح بلاثبوت الزام تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

وہ پاکستان کے نڈر اور بے باک صحافی سمجھے جاتے ہیں۔انھوں نے بہت سے ایسے حساس ایشوز پر دلیرانہ انداز میں رپورٹنگ کی اور پروگرام کیے ہیں جن پر دوسرے صحافی حضرات دو لفظ کہنا یا لکھنا گوارا نہیں کرتے۔پاکستان کے بزرگ صحافی مجید نظامی کے بہ قول وہ سب سے باخبر صحافی ہیں لیکن ان کے ادارے جنگ اور جیو گروپ کی امریکا اور بھارت نواز پالیسی کو بہت سے پاکستانی پسند نہیں کرتے اور وہ ماضی میں سماجی روابط کی ویب سائٹس پر کھلم کھلا اس پالیسی کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں۔

اس پس منظر میں حامد میر پر حملے کے بعد ان کے مخالفین اور حامی سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کررہے ہیں۔وہ ان کی حمایت اور مخالفت میں تحریریں پوسٹ کررہے ہیں لیکن ان میں طرفین کی جانب سے زیادہ تر سطحی جذباتیت اور بے بنیاد الزام تراشی کا سہارا لیا جارہا ہے۔تاہم بعض سنجیدہ فکر حضرات نے ان ہر دو طبقوں کو معقول طرز فکر اختیار کرنے کا نیک مشورہ دیا ہے۔

انھوں نے فیس بُک اور ٹویٹر پر پاک فوج ،آئی ایس آئی اور آزادی صحافت پر حملہ آور ہونے والوں کو خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس حملے کی آڑ میں ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جس سے ملک کے قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہو اور وہ کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر کسی کو بھی غدار اور ملک دشمن ایسے القاب سے نوازنے سے بھی گریز کریں۔