صوبہ خیبر: پولیس پر حملے، شہری سمیت 6 جاں بحق

تیس افراد زخمی، پولیس نے 9 مشتبہ افراد گرفتار کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں پیر اور منگل کی درمیانی رات کے بعد منگل کی صبح بھی پولیس ددہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہے ۔ پانچ پولیس اہلکاروں سمیت چھ جاں بحق اور دس پولیس اہلکاروں سمیت 27 افراد زخمی ہو گئے ۔ بعدازاں صبح دس بجے کے قریب پولیس نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے چار زخمیوں سمیت 9 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پہلا واقعہ پشاور کے مضافاتی مگرعالمی شہرت یافتہ علاقے بڈھ بی رمیں پیش آیا جہاں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پانچ پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے پولیس اس علاقے میں رات کے وقت معمول کے گشت پر تھی کہ پولیس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ ان زخمی اہلکاروں کو ریسکیو کرنے کیلیے تھانے سے ایک اے ایس آئی کی قیادت میں ایک ٹیم روانہ کی گئی۔

ریسکیو کے لیے روانہ ہونے والی ٹیم کو ایک سول گاڑی میں بھیجا گیا تا کہ دوسری پولیس وین بھی دہشت گردوں کا فوری نشانہ نہ بن جائے۔ جب یہ اہلکار موقع پر پہنچے تو دہشت گردوں نے دوسری پولیس پارٹی پر بھی فائرنگ کر دی۔

پولیس پارٹی نے بھی جوابی فائر کھولا لیکن دہشت گردوں کے نشانے زیادہ کارگر ثابت ہوئے اور پانچ پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق علاق ایک پولیس وین کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ منگل کی صبح ان جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کرنے بعد ان کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں بھجوادی گئی ہیں۔

پولیس کو دہشت گردوں کی طرف سے نشانہ بنانے کا دوسرا واقعہ چارسدہ کے تحصیل بازار میں پولیس وین پر کیے گئے دھماکے کی صورت میں پیش آیا ہے۔ پولیس وین فاروق اعظم چوک کے قریب تھی کہ ایک مبینہ ریموٹ کنٹرول بم سے دھماکہ کرتے ہوئے پولیس وین کو ہدف بنایا گیا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں ایک عام شہری ہلاک گیا ۔ پولیس حکام کا خیال ہے کہ یہ ریموٹ سے کیا گیا دھماکا قریب کھڑی کی گئی موٹر سائیکل میں بم چھپا کر کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر دونوں واقعات میں لگ بھگ تیس لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے ان علاقوں میں پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں، جن کے نتیجے میں کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پولیس حکام کے مطابق لیڈی ریڈنگ پولیس میں علاج کیلیے آنے والے چار مشتبہ زخمیوں سمیت 9 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ شب ہے کہ یہ زخمی بڈھ بیڑ کے علاقے میں پولیس پر حملے کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔

یکم مارچ سے تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے بعد 17 تاریخ تک کافی امن کا ماحول رہا ہے، تاہم بعد ازاں طالبان نے حکومتی ریسپانس کو مثبت قرار نہ دیتے ہوئے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلا کیا ہے۔ البتہ یہ وضاحت کی ہے کہ اگر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی تو اس کا جواب دیا جائے گا، تاہم ابھی کسی گروپ نے ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں