.

پیمرا: جیو کیخلاف وزارت دفاع کی درخواست کی سماعت

چینل کیخلاف الزام سنگین ہے، وضاحت کا موقع دیں گے: پیمرا حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے ٹی وی چینل کے خلاف وزیر دفاع کی طرف سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی [پیمرا] کو دی گئی درخواست کی ابتدائی سماعت شروع کر دی گئی ہے۔ وزارت دفاع نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جیو ٹی وی نے ملکی سلامتی کے حوالے سے اہم ادارے کو بدنام کیا ہے اور اس پر بلا ثبوت سنگین نوعیت کے الزامات عاید کیے ہیں۔

وزارت دفاع نے منگل کے روز دائر کردہ اپنی اس درخواست میں مذکورہ چینل کے خلاف کارروائِی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی نشریات معطل کی جائیں اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے۔

وزارت دفاع نے ہفتے کے روز جیو کے سینئیر اینکر پرسن حامد میر پر حملے کے بعد ان کے بھائی عامر میر کے ڈی جی آئی ایس آئی پر لگائے گئے سنگین الزامات اور اس اہم قومی ادارے کو بدنام کرنے کی مسلسل کوشش کو بنیاد بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ٹی وی نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔

اس سے پہلے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل باجوہ نے خبردار کیا تھا قومی سلامتی کے ذمہ داروں کیخلاف بے بنیاد الزامات ناقابل برداشت ہیں اس لیے ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، تاہم وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ آئی ایس پر جیو کے الزامات کوئی ایشو نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ حکومت اہل دانش کے ساتھ ہے غلیل والوں کے ساتھ نہیں ہے۔

لیکن وزیر اطلاعات کے اس بیان کے کچھ ہی دیر کے بعد وزارت دفاع کی پیمرا کو درخواست موصول ہو گئی۔ وزارت دفاع کی ترجمان کا کہنا ہے کہ پیمرا کو یہ درخواست وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھجوائی ہے۔ اس سے پہلے حکومت سینئیر صحافی پر حملے کی تحقیقات کیلیے تین رکنی عدالتی کمیشن بنا چکی ہے۔

پیمرا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جیو کیخلاف سنگین نوعیت کے الزامات کی وجہ سے مدعا علیہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔ آج بدھ کے روز پیمرا کے قائم مقام سربراہ پرویز راٹھور کی سربراہی میں اس درخواست کی ابتدائی سماعت کے دوران پیمرا کے قانونی ماہرین نے جائزہ لیا اور تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

تین رکنی کمیٹی میں پرویز راٹھور، اسماعیل شاہ اور اسرار عباسی شامل ہیں۔ واضح رہے جیو ٹی وی کی انتظامیہ اس الزام کی تردید کرتی ہے کہ اس نے آئی ایس آئی یا کسی قومی ادارے کو بدنام کیا ہے۔ خیال رہے پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے معاملات کو چلانے، ان کی نگرانی کرنے، ان کے نشریات جاری کرنے اور روکنے کا اختیار پیمرا کو حاصل ہے۔