.

حامد میر حملہ کیس: پاکستانی انٹیلی جنس پرالزام کا اعادہ

ماضی قریب میں خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں:بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ انھیں گذشتہ ہفتے کے روز کراچی میں قاتلانہ حملے سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی رہی تھیں۔

انھوں نے جمعرات کو ہوش میں آنے کے بعد اپنے بھائی عامر میر کے ذریعے میڈیا کے لیے اپنا پہلا بیان جاری کیا ہے۔انھوں نے اس بیان میں کہا ہے کہ ''انھوں نے 19 اپریل کے قاتلانہ حملے سے پہلے خود کو درپیش خطرات کے حوالے سے جیوٹی وی نیٹ ورک کی انتظامیہ، خاندان کے افراد اور قریبی دوستوں اور ساتھیوں کو پیشگی آگاہ کردیا تھا اور ان عناصر کی بھی نشاندہی کردی تھی جن سے انھیں خطرہ تھا''۔

انھوں نے کہا کہ'' انھوں نے عامر میر کے علاوہ کچھ قریبی ساتھیوں کو بھی یہ کہا تھا کہ اگر انھیں قتل کردیا جاتا ہے تو کون لوگ اس کے ذمہ دار قرار دیے جانے چاہئیں''۔ حامد میر نے کہا کہ انھیں ریاستی اور غیر ریاستی دونوں عناصر کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا تھا لیکن ماضی قریب میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن کے بعد انھوں نے اپنے رفقاء کو ایسے عناصر کے بارے میں آگاہ کردیا تھا جو ان کو قتل کی سازش میں شریک ہوسکتے ہیں۔

حامد میر کے مطابق چند روز قبل ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے بعض اہلکار ان کے گھر آئے تھے اور انھیں بتایا کہ ان کا نام ایک ہٹ لسٹ میں دیگر صحافیوں کے ساتھ شامل ہے لیکن ان کے اصرار کے باوجود آنے والے خفیہ افسروں نے ہٹ لسٹ بنانے والوں سے متعلق کوئی تفصیل بتانے سے انکار کردیا تھا۔

صحافیوں کے حقوق کی علمبردار عالمی تنظیم ''صحافیان ماورائے سرحد'' نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حامد میر نے اسے 7 اپریل کو آئی ایس آئی سے درپیش خطرے سے آگاہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ انھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔


انھوں نے اپنے بھائی کے ذریعے جاری کردہ بیان میں بھی اس کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ آئی ایس آئی ان کے مقبول ٹاک شو ''کیپٹل ٹاک'' کے ایک پروگرام میں بلوچستان کے لاپتا افراد کے لواحقین کی جانب سے ان کے ایک لیڈر ماما قدیر بلوچ کی قیادت میں اسلام آباد تک لانگ مارچ کو نشر کرنے پر نالاں تھی۔

انھوں نے کہا کہ ''میں اس بات سے بھی آگاہ ہوں کہ آئی ایس آئی سیاست میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر میری تنقید سے نالاں تھی''۔ وہ ماضی میں اپنے پروگرام اور کالموں میں جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں محدود پیمانے پر علاحدگی پسندی اور جنگ پسندی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں عام افراد کو غائب کیے جانے پر خفیہ ایجنسیوں اور فوج پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان،جسٹس تصدق حسین جیلانی نے حکومت کی درخواست پر حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ کے تین جج صاحبان پر مشتمل تحققیاتی کمیشن قائم کیا ہے لیکن اس کمیشن نے ابھی اپنے کام کا آغاز نہیں کیا ہے۔

حامد میر پر کراچی میں گذشتہ ہفتے کے روز ہوائی اڈے سے جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے دفتر کی جانب جاتے ہوئے موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی۔انھیں تین گولیاں لگی تھیں اور وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

ان کے بھائی عامر میر نے اس حملے کے فوری بعد ملک کی طاقتور خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا۔تاہم ابھی تک کسی جنگجو،عسکری یا لسانی تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے سینیر صحافی اور اینکرپرسن پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی تھی۔اس ضمن میں آئِی ایس آئی پر عاید کردہ الزامات کو بے بنیاد قراردے کر مسترد کردیا تھی اور واقعہ کی آزادانہ تحقیقات پرزوردیا تھا۔آئی ایس پی آر نے حامد میر کے تازہ بیان کے حوالے سے دم تحریر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔

ان پر حملے کے بعد ان کے ادارے جیو ٹیلی ویژن کی جانب سے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل ظہیرالاسلام پر براہ راست الزام تراشی پر بعض صحافیوں اور میڈیا اداروں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اسے ایک بلاتحقیق اور بلاثبوت بچگانہ حرکت قراردیا تھا۔جیو ٹی وی کی نشریات میں جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر باربار چلائی جاتی رہی تھی۔

اس پر پاک فوج نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا کہ قومی اداروں کی کردارکشی ناقابل برداشت ہے۔پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مہم کی بنیاد پر وزارت دفاع نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو جیو کے خلاف ایک درخواست دی ہے جس میں اس کی نشریات بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس درخواست پر پیمرا نے جیو کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

درایں اثناء کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل شیخ اعجاز نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مختلف شہروں میں دفاعی اداروں کے زیر انتظام رہائشی علاقوں میں جیو ٹیلی ویژن کی نشریات بلاک کردی گئی ہیں۔تاہم پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے انھِیں ایسی کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔جیو کی انتظامیہ نے بھی الزام عاید کیا ہے کہ بعض علاقوں میں اس کی نشریات جام کی جارہی ہیں یا کیبل آپریٹروں کو چینل کے نمبر تبدیل کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔