.

پاکستان: خوشونت سنگھ اپنے آبائی گاوں میں ''آسودہ خاک"'

آپریشن بلیو سٹار کے کرب کو ہڈالی میں شیشم کی چھاوں مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہادر شاہ ظفر نے قبر کیلیے اپنے دیار میں دو گز زمین بھی نہ ملنے کی خوبصورت اور شاعرانہ انداز میں شکایت کی تھی، لیکن خوشونت سنگھ نے اپنی اس محرومی کو محرومی نہ رہنے دیا اور مرنے کے بعد کسی قدر اپنے وطن کی خاک میں آسودگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

عظیم دانشور خوشونت سنگھ 1915 میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیدا ہوا۔ آبائی گاوں ضلع خوشاب میں ہڈالی کے نام سے مشہور ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت منتقل ہونے کے باوجود اس کا دل ہمیشہ پاکستان کے اس گاوں میں اٹکا رہا۔ جب پاکستان کے دورے پر آنے ہوا تو نے اپنے گاوں کی زیارت بھی کرتے۔ اس کی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد ہی سہی اسے اپنے آبائی گاوں میں مڑھی نصیب ہو جائے۔ اس کا اظہار اس نے اپنے اہل خانہ سے بھی کیا اور دوستوں سے بھی۔

ننا نوے سال کی عمر میں اسی ماہ مارچ کے دوران خوشونت سنگھ کا انتقال ہوا تو پاکستان کے ایک بڑے علمی خانوادے سے تعلق رکھنے والے فقیر اعجازالدین بھارت میں اپنے اس دوست کی تعزیت کیلیے گئے تو وہاں سے خوشونت سنگھ کی مٹھی بھر راکھ بھی ساتھ لے آئے تاکہ جزوی طور پر ہی سہی خوشونت سنگھ کی اپنے وطن میں آسودہ خاک ہونے کی آرزو پوری ہو سکے۔

خوشونت سنگھ کے کریا کرم کے بعد یہ راکھ اس کے اہل خانہ سے لے کر اس کے گاوں پہنچے جہاں یادوں کی پوری بارات اتری تھی۔ مقامی سکول جہاں خوشونت سنگھ نے ابتدائی تعلیم پائی تھی اس کے سابق ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ کرام بھی موجود تھے۔ اس موقع پرسابق ہیڈ ماسٹر محمد حیات نے کہا '' دھرتی کا بیٹا واپس آ گیا ہے۔''

پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور سے 280 کلو میٹر دور ضلع خوشاب میں لائی گئی خوشونت سنگھ کی راکھ میں اپنے وطن کیلیے آنے والی محبت کی چنگاری نے بہت ساروں کے دلوں کو گرما دیا۔ نئی دہلی سے لا گئی اس راکھ شیشم کے اس درخت کے نیچے سیمنٹ سے کھڑی کی گئی ایک یادگار سے جوڑ دیا گیا جس شیشم کے نینچے خوشونت سنگھ کا بچپن گذرا تھا۔ گویا '' پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ ''

شیشم کی چھاوں میں نصب کی گئی اس لوح پر تحریر کیا گیا ہے ، ''ایک سکھ، ایک دانشور اور ہڈالی کا ایک سپوت۔'' اس یادگاری لوح کی تنصیب کے موقع پر سکول کے وہ اساتذہ بھی موجود تھے جو 1987 میں خوشونت سنگھ کی یہاں آمد پر اس سے مل چکے تھے۔

واضح رہے خوشونت سنگھ کے شہ پاروں کے مداح پاکستان میں بھی اسی طرح کثرت سے موجود ہیں جس طرح بھارت میں موجود ہیں ، خوشونت سنگھ اس وجہ سے بھی اس پاک دھرتی سے محبت کرتا رہا۔ اب اتنا عرصہ گذرنے کے بعد اگرچہ خوشونت سنگھ کا پرانا گھر تو اب اصلی حالت میں موجود نہیں رہا ہے لیکن اس کا نیا گھر اسی ہڈالی اس کی محبتوں کا سراغ دیتا رہے گا۔ امرتسر میں آپریشن بلیو سٹار تک کے سارے زخموں کے بعد اس نے اس پاک دھرتی میں آسودہ خاک ہونے کی آرزو پوری کر لی ۔