کراچی کے پوش علاقے میں دھماکہ، چار جاں بحق

مسلسل دوسرے روز دھماکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے شہر اور اہم ترین صنعتی و تجارتی مرکز کراچی میں مسلسل دوسرے روز دھماکہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم چار افرار جاں بحق اور بائیس زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیاہے۔ جہاں بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

جمعہ کے روز دھاکہ کراچی کے سب سے پوش علاقے ڈیفنس کے گزری روڈ پر دہلی کالونی میں ہوا۔ دھماکہ مقامی مسجد کے سامنے کیا گیا ہے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ دھماکے کا ہدف ایک سرکاری گاڑی تھی۔ لیکن یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ سرکاری گاڑی میں کون سرکاری افسر یا شخصیت موجود تھی۔

ایک روز قبل کراچی کی ایک گنجان آباد بستی میں پولیس انسپیکٹر شفیق تنولی کو ایک مبینہ خود کش حملہ آور نے ان کی رہائش گاہ کے سامنے ایک دکان پر نشانہ بنایا تھا۔ جس سے مجموعی طور پر چار افراد جان بحق ہو گئے تھے۔ اس خود کش دھماکے سے متعلقہ دکان کی بیرونی دیوار چھلنی ہو گئی، جبکہ دکان کا کچھ اندرونی حصہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

واضح رہے شفیق تنولی پر اس سے پہلے بھی نصف درجن سے زائد قاتلانہ حملے ہو چکے تھے اور اعلی حکام نے ان دنوں انہیں معطل کر رکھا تھا ۔ البتہ ان کی سکیورٹی پر ایک سے زائد گارڈ مامور تھے۔ جب یہ خود کش حلمہ ہوا تو سکیورٹی گارڈز بھی موجود تھے۔

پولیس حکام کے مطابق اس دھماکے سے دس کے قریب گاڑیوں کو سخت نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک موٹر سائیکل کے بھی بری طرح تباہ ہونے کی اطلاع پے۔ پولیس کے اور دیگر سکیورٹی اداروں کے علاوہ بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی موقع پر پہنچ گیا ہے۔ سکیورٹی حکام نے موقع سے بم دھماکے سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خود کش دھماکہ کی جگہ پر ایک بڑا سا گڑھا بن گیا ہے۔ اسی وجہ سے پولیس حکام فوری طور پر یہ کہنے سے قاصر رہے کہ گزری روڈ پر ہونے والا دھماکہ کسی خود کش حملہ آور کی کارروائی ہے یا اس کیلیے کوئی اور طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں