.

سڑک کنارے بم پھٹنے سے تین سیکیورٹی اہلکار جاں بحق

واقعہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی وفاق کے زیر انتظام نیم خود مختار قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی سرحد پر دھماکے میں ایک فوجی افسر سمیت تین سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب پشاور کے علاقے سرکی گیٹ میں دھماکے سے ایک مکان کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ شرپسندوں کی جانب سے راکٹ فائر کئے گئے جو دھماکے سے پھٹ پڑے۔

تفصیلات کے مطابق یہ یہ واقعہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر پیش آیا۔ بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک فوجی افسر اور تین اہلکار مارے گئے۔

ایک فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ "سڑک کنارے نصب ایک دیسی ساختہ بم ( آئی ای ڈی) پھٹنے سے ایک افسر سمیت کم از کم تین سیکیورٹی اہلکار نے شہادت پائی ہے اور تین اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔"

اب تک کسی بھی گروہ یا فرد نے اس واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن اس علاقے میں تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) اور القاعدہ کے دہشتگرد سرگرم ہیں۔ نیم خود مختار اس قبائلی علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ تازہ واقعہ اس اعلان کے دو ہفتے بعد رونما ہوا ہے جس میں ٹی ٹی پی نے امن مذاکرات کیلئے ایک ماہ سے زائد کے سیز فائر کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ سولہ اپریل کو ٹی ٹی پی نے اعلان کیا تھا کہ وہ یکم مارچ کو شروع کئے جانے والے سیزفائر میں مزید توسیع نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے شدت پسند کئی برس سے حکومتی سیکیورٹٰی اہلکاروں اور پاکستانی عوام سے برسرِ پیکار ہیں اور اس میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بتایا کہ دھماکے میں پانچ سو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔

شدت پسندوں نے پشاور ایئرپورٹ کے علاقے میں دو راکٹ بھی داغے جو ایئر پورٹ حدود میں گر کر زوردار دھماکے سے پھٹ پڑے۔ اس واقعے میں کسی جانی اور مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔ اب تک کسی بھی گروہ یا فرد نے اس واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔