.

اسلام آباد پولیس کا لاپتا افراد کے لواحقین اورصحافیوں پر تشدد

وزیراعظم کا گرفتارافراد کی رہائی اور تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کرنے والے کارکنان اور صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

لاپتا افراد کے لواحقین نے سوموار کو پارلیمان ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں ریلی نکالی تھی اور انھوں نے پارلیمان کی جانب جانے کی کوشش کی تھی۔اس دوران پولیس نے ان پر لاٹھی چارج شروع کردیا ،ہوائی فائرنگ کی اور انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔

پولیس دستے میں شامل خواتین اہلکاروں نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم تحریک کی روح رواں آمنہ مسعود جنجوعہ کو تشدد نشانہ بنایا ،انھیں سڑک پر گھسیٹا اور پھر مرد پولیس اہلکار انھیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔پولیس نے واقعے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور ان کے کیمرے چھیننے کی کوشش کی۔

مقامی ٹیلی ویژن چینلز نے بعض زخمی صحافیوں کی فوٹیج نشر کی ہے۔ان کے سر اور چہروں سے خون بہہ رہا ہے۔سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں صحافیوں کے کیمرے اور دوسرے آلات ٹوٹ گئے ہیں۔

صحافیوں کو پولیس اہلکاروں نے اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا تھا جب وہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی سربراہ مسز آمنہ مسعود جنجوعہ پر تشدد کی فوٹیج بنانے کی کوشش کررہے تھے۔اس کارروائی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بعض صحافیوں اور مظاہرہ کرنے والے افراد کو حراست میں لے لیا۔مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں چھے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے پُرامن مظاہرین پر پولیس کے وحشیانہ تشدد کا سخت نوٹس لیا ہے اور متعلقہ حکام کو حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ حق ان سے چھینا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے متعلقہ حکام کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور خواتین کے ساتھ دست درازی کرنے والے اہلکاروں سے سختی سے نمٹنے اور انھیں سزائیں دینے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے گذشتہ ادوار حکومت میں اچانک اغوا کرکے غائب کر دیے گئے افراد کے لواحقین ان کی بازیابی کے لیے ایک عرصے سے احتجاجی تحریک چلا آرہے ہیں۔وہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں بھی اپنا یہ مقدمہ لڑرہے ہیں۔انھوں نے اپنی دائر کردہ درخواست میں ملک کے بعض خفیہ اداروں کو ان افراد کی گم شدگی کا ذمے دار قراردیا تھا۔اس پرعدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں لاپتا افراد کی جلد سے جلد بازیابی اور انھیں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

لیکن اب تک معدودے چند لاپتا افراد کے بارے میں ہی بتایا گیا ہے کہ وہ حکام کے زیرحراست ہیں اور دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھے۔باقیوں کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکا ہے کہ وہ کہاں گئے ہیں۔انھیں زمین کھا گئی یا آسمان نے اُچک لیا تھا۔