.

پاکستان: صوبہ سندھ میں کم عمری کی شادی کیخلاف قانون

کم عمر دلہن سے شادی کرنے والوں اور والدین کو سزا ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی نے کم عمری کی شادیوں پر 1929 کے ایکٹ کی جگہ ایک نیا قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد شادی کیلیے بچوں اور بچیوں کی کم از کم عمر کی حد 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو تین سال قید 45 ہزار روپے تک جرمانہ کی سزا دی جا سکے گی۔ اس سزا کا مستحق کم عمر شادی شدہ جوڑوں کے والدین اور سرپرستوں کے علاوہ کم عمر بچی سے شادی کرنے والے دولہا کو بھی سمجھا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان جہاں جدید تحقیق کے خوراک پر اثر انداز ہونے، ادویات کے غیر متوازن ہونے اور سماجی اقدار میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر کم عمری میں بلوغت کے آثار بڑ ھ رہے ہیں، سندھ کی صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی نے کم عمری کی شادیوں پر پابندی عائد کرنے کا بل پیش کیا، جسے ایوان نے ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کی سربراہی میں متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ بل منظوری کے بعد گورنر کے دسخطوں سے ایک باضابطہ قانون کا درجہ پائے گا۔ اس کی خلاف ورزی ناقابل ضمانت جرم سمجھی جائے گی۔

واضح رہے کم عمری کی شادیوں کے واقعات صوبہ سندھ کے علاوہ صوبہ بلوچستان اور پنجاب کے ان علاقوں میں زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں جو جاگیر دارانہ پس منظر کے حامل علاقے ہیں اور جہاں روایتی سیاسی جماعتوں کا ووٹ بنک موثر ہے۔

اس مسئلے کی جڑیں اس خطے میں بہت پرانی ہیں یہی وجہ ہے کہ برطانوی راج میں 1929 میں بھی ایک ایسا منظور کیا تھا۔ 1929 کے اس پرانے ایکٹ کے تحت کم عمری کی شادی کا اہتمام کرنے والے افراد کو ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جانا طے کیا تھا۔

کم عمری کی شادی کے خلاف بل کی منظوری کے بعد سندھ اسمبلی کی رکن شہلا فاروقی نے اس بارے میں کہا ہے اس سماجی مسئلے سے نمٹنے کیلیے مختلف این جی اوز اور سماجی تنظیموں سے مدد لی ہے اور ان سے مشاورت کے بعد اس سماجی ایشو پر مبنی بل اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ تاہم انہوں نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہا اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کی ضرورت محسوس کی گئی نہ اس کا اہتمام کیا گیا ہے۔

واضح رہے اسلامی نضریاتی کونسل ملکی قوانین کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کا ذمہ دار آئینی ادارہ ہے۔ جس میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندہ علما موجود ہیں۔ امکانی طور پر اسلامی نظریاتی کونسل اپنے طور پر اس نئے منظور کیے گئے قانون کا جائزہ لے سکتی ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس قانون کی پذیرائی کا امکان ہے۔