.

پاکستان میں دسیوں سرکاری محکموں کی بجلی منقطع

خبروں کے متلاشی میڈیا کو نیا موضوع بحث مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان جہاں پچھلے دس دنوں سے میڈیا کے ایک گروپ کی طرف سے فوج کی پریمئیر خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس 'آئی ایس آئی' اور اس کے سربراہ پر سینئر صحافی پر مبینہ قاتلانہ حملے کے الزام کی مہم کے بعد ایک بحث جاری تھی وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر ان کے اپنے ہی سیکرٹیریٹ، سپریم کورٹ، وفاقی وزارتوں پر مشتمل سیکرٹیریٹ اور وفاقی ترقیاتی ادارہ سمیت درجنوں سرکاری محکموں کی طرف سے بلوں کی عدم ادائیگی پر ان کی بجلی منقطع کرنے سے میڈیا کی خبروں کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔

ہوا کا رخ موڑنے کی اس کاوش میں صوبہ سندھ کے اکیاسی سالہ وزیر اعلی قائم علی شاہ نے یہ کہہ کر حصہ ڈالا ہے کہ "بغیر حساب کتاب کے واجب الادا رقوم ادا نہیں کریں گے"، جبکہ بعد ازاں سندھ اسمبلی نے اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کر کے معاملے کو اور گرما دیا ہے۔ وزیر اعلی سندھ جب اسمبلی کو یہ بتا رہے تھے کہ وہ وزیر مملکت کے حوالے سے وزیر اعظم کو خط بھی لکھ رہے ہیں تو ایک خاتون کی آواز ابھری "وہ انہی کا بھانجا ہے۔"

واضح رہے قائم علی شاہ کے اسمبلی سے خطاب کے دوران ڈپٹی سپیکر شہلا رضا اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے واقفان حال کے مطابق قائم علی شاہ کی تقریر جہاں مجموعی طور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے حوالے سے اہم تھی وہیں میٹر ریڈر کا لفظ بول کر انہوں اپنی ہی پارٹی اور اپنے شہر سے تعلق رکھنے والے ایک اہم قومی رہنما کو بھی نشانہ بنایا ہے جو ماضی میں میٹر ریڈر ہوا کرتے تھے۔

پیپکو کے ماتحت ادارے میں کسٹمر سروس کے شعبے کے اعلی ذمہ دار ریاض قدیر بخاری نے ''العربیہ'' کو بتایا حکومت آزاد جموں کشمیر پیپکو کے سب سے بڑے نادہندگان میں سے ایک ہے لیکن اس کا کنکشن منقطع کرنے کی ہدایات نہیں دی گئی ہیں۔ ریاض قدیر بخاری کے مطابق "جن اداروں کی بجلی منقطع کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں ان میں سے دو ماہ سے لیکر چند ماہ اور بعض کئی کئی برسوں سے نادہندہ چلے آ رہے ہیں۔ برس ہا برس سے نادہندہ چلے آنے والے ان اداروں میں آزاد حکومت جموں و کشمیر 2007 اور 2008 سے نادہندہ بتائی گئی ہے. کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈی جی کسٹمر سروس ریاض قدیر بخاری کے بقول، تین سے چار سال سے دو ارب بیس کروڑ کی نادہندہ ہے۔

دوسری جانب وزیر مملکت پانی و بجلی کے حوالے سے میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت 56 ارب روپے کی نادہندہ ہے۔ پیپکو حکام کے مطابق ان داروں کی بجلی دیے گئے احکامات کے مطابق منقطع کر دی گئی ہے ۔لیکن پاک سیکرٹیریٹ میں سٹاف یونین کے ایک ذمہ دار کے مطابق شام پونے پانچ بجے تک ایسا کچھ نہیں ہوا، اس لیے آج کا دن تو کم از کم بجلی کا انقطاع نہ ہوا۔

یونین کے اس نمائندے کا کہنا تھا سالہا سال سے ایسا کبھی نہیں ہوا ہے کہ بجلی منقطع کی گئی ہو۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ متبادل ذرائع جنریٹرز وغیرہ کی کیا پوزیشن ہے ۔ ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا اس لیے کسی نے کبھی جنریٹرز چلتے بھی نہیں دیکھے۔ اس لیے مشکل ہے کہ بجلی کٹے۔

وزیر اعظم سیکرٹیریٹ میں ایک شعبے میں ذمہ دار نے تقریبا چار بجے یہ بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹیریٹ کی بجلی معمول کے مطابق موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا جہاں بجلی کے بلوں کی ادائیگی یا پیپکو کی جانب سے کسی نوٹس کے ملنے کا تعلق ہے اسے ہمارے انتظامی شعبے کی ذمہ دار خاتون ڈیل کرتی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم کا ''العربیہ'' سے کہنا تھا ''ہمارے ادارے کو ایسا کوئی نوٹس آیا ہے نہ بجلی کٹی ہے۔ '' انہوں نے مزید کہا ان کے ادارے کا فروری تک کا بل ادا ہو چکا ہے ۔ واضح رہے اکثر سرکاری اداروں کے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے چیک جاری ہونے ہوتی ہے اس لیے اکثر ادارے اور ان کے ترجمان اپنے اداروں کو بری الذمہ سمجھتے ہیں اور ذمہ داری آے جی پی آر پر عاید کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومتی، سرکاری اور اداراتی سطح پر اس طرح کی نادہنگی سے شاید ہی کوئی محفوظ ہو، حتی کہ وزارت خزانہ، پلاننگ کمیشن، وزارت داخلہ اور ایک طرح سے خود اے جی پی آر بھی. درایں اثنا ء یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پلاننگ کمیشن کی بجلی پچھلے دور حکومت میں ایک یا دو دن کیلیے منقطع ہوئی تھی تاہم بعد میں بحال ہو گئی ۔

سیکرٹیڑیٹ کے ذرائع کے مطابق اگر بجلی منقطع ہوئی تو پانچ سے چھ ہزار سرکاری کارکنوں کے لیے اپنے فرائض منصبی انجام دینا مشکل ہو جائے گا، جس سے سرکاری مشینری جام ہو جائے گی۔ اس لیے حکومت اپنے تمام تر زور و شور کے باوجود بجلی کا کلی انقطاع ممکن نہ ہو گا ۔

پارلیمنٹ ہاوس میں اسپیشل سیکرٹری سید منور عباس نے ''العربیہ'' کو بتایا کہ پارلیمنٹ ہاوس اور لاجز کے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کیلیے سرکاری خزانے سے رقم سی ڈی اے کو منتقل ہوتی ہے لیکن پچھلے کئی برسوں سے سی ڈی اے نے یہ رقوم اپنے کارکنوں کی تنخواہوں پر خرچ کر لی ہیں۔ اب ہماری بجلی منقطع ہونے کے بعد چئیرمین سی ڈی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک سو پچیس ملین کے قریب رقم کا چیک فوری طور جاری کر کے آیسکو کو بھجوا رہے ہیں۔ تاہم اس بارے میں رات گئے تک متضاد اطلاعات آتی رہیں کہ کس کی بجلی کٹی ہے اور کس کی بحال ہے۔

انہوں نے پاک سیکرٹریٹ کی بجلی منقطع نہ ہونے اور پارلیمنٹ کی منقطع ہو جانے کے بارے میں بتایا چیئرمین سی ڈی اے نے پیر کے روز ایک سو پندرہ ملین روپے کا چیک آئیسکو بھجوا دیا تھا۔ اس لیے ان کی بجلی منقطع ہونے سے بچ گئی۔ لیکن دلچسپ خبر یہ ہے کہ خود وزارت پانی و بجلی کی بجلی بھی نادہندگی کی بنیاد پر کاٹ دی گئی۔ اس شفافیت اور مساوی سلوک سے ہی اس اقدام کی سنجیدگی مشکوک لگتی ہے کہ جو وزارت بجلی منقطع کرنے کا حکم دیتی ہے وہ خود بھی بل ادا نہیں کرتی۔

برقی رو معطلی کے حکومتی فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شور سے میڈیا کے ایک گروپ کو قدرے ریلیف کا احساس تو مل جائے گا تاہم حکومت کیلیے ایک اور چیلنج سامنے آ سکتا ہے کہ جن محکموں کے ذمہ آئیسکو کو ادائیگیاں کرنا تھیں لیکن انہوں نے سالہا سال سے ایسا نہیں کیا ان کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کرسکے گی یا نہیں۔ نیز یہ کہ حکومت کو اپنی ''بیڈ گورنس '' کا جو طعنہ ملک کے اندر اور باہر سننا پڑے گا اس کا ازالہ کیسے ہو گا کیونکہ ایک کھرب روپے کی رقم کی نادہندگی کو چیک نہ کیا گیا۔