.

پولیو:ڈبلیو ایچ او کی پاکستان پرسفری پابندیوں کی سفارش

مہلک وائرس کے نئے کیسوں کے بعد عالمی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں پولیو کے کیسوں میں اضافے کے پیش نظر ملک سے باہر جانے والوں پر سخت سفری پابندیاں عاید کرنے کی سفارش کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''پولیو کا پھیلنا ایک عالمی صحت ایمرجنسی ہے اور دوسرے ممالک میں بھی یہ خطرناک بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہے''۔ادارے نے اس مہلک مرض کے خلاف جنگ کے لیے نئے رہ نما اصول جاری کیے ہیں اور یہ سفارش کی ہے کہ پاکستان سے بیرون ملک سفر پر جانے والوں کو پولیو ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔

خانہ جنگی کا شکار شام اور افریقی ملک کیمرون سے بیرون ملک جانے والوں پر بھی پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے۔ان تینوں ممالک سے بیرون ملک جانے کے خواہاں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پولیو سے بچاؤ اور اس کا وائرس ناکارہ کرنے والی ویکیسن استعمال کریں اور اس ضمن میں ویکسی نیشن کا بین الاقوامی سرٹیفیکیٹ پیش کریں۔

شام اور کیمرون میں پہلے پولیو کے وائرس پر قابو پالیا گیا تھا لیکن اب دوبارہ وہاں پولیو کے نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔پاکستان کے علاوہ نائیجیریا اور افغانستان ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو کا مہلک وائرس وبائی شکل اختیار کرچکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے ان ممالک میں حالیہ مہینوں کے دوران پولیو کے نئے کیس سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی ہے اور کہا ہے کہ اس مہلک مرض سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پرمربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کےتحت اس ادارے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بروس ایلوارڈ نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''عالمی تشویش کے لیے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کی شرائط پوری ہوچکی ہیں۔اگر صورت حال یونہی رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اس مہلک مرض سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہیں''۔

ڈبلیو ایچ او نے افغانستان ،پاکستان اور نائیجیریا سمیت دس ممالک میں پولیو وائرس پائے جانے کی اطلاعات کے بعد گذشتہ ہفتے جنیوا میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔اس اجلاس میں صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد جن ممالک میں پولیو وبائی شکل اختیار کرچکا ہے،وہاں سے بیرون ملک جانے کے خواہاں کسی بھی شخص کے لیے پولیو کی ویکسی نیشن کی سفارش کی گئی ہے۔

یادرہے کہ 1988ء میں دنیا کے ایک سوپچیس ممالک میں پولیو نے وبائی صورت اختیار کی تھی لیکن گذشتہ پچیس چھبیس سال کے دوران عالمی ادارہ صحت سمیت مختلف اداروں کی کوششوں کے نتیجے میں اس مہلک وبائی مرض پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔1988ء میں دنیا بھر میں پولیو سے متاثرہ کیسوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ تھی لیکن 2013ء میں یہ کم ہوکر صرف چار سو سترہ رہ گئی تھی۔

اس سال اب تک دنیا بھر میں پولیو کے چوہتر کیس سامنے آئے ہیں اور ان میں انسٹھ صرف پاکستان میں رپورٹ ہوئے ہیں۔اسی بنا پر ڈبلیو ایچ او نے پاکستان ، کیمرون اور شامی عرب جمہوریہ کو پولیو وائرس برآمد کرنے والے ممالک قراردیا ہے۔

پولیو کا مرض وائرس سے لاحق ہوتا ہے اور یہ مریضوں کی نقل وحرکت کی وجہ سے یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتا ہے۔اس کا وائرس آلودہ پانی ،گندگی اور انسانی فضلات سے پھیلتا ہے اورعام طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔پولیو کا وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور یہ گھنٹوں میں اعصابی نظام کو ناکارہ کرکے جسمانی اعضاء کو مفلوج کردیتا ہے۔

بچوں میں معذوری کی صورت میں اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور اس سے قبل اس کا مریض میں ہرگز بھی پتا نہیں چلتا ہے۔جب ایک مرتبہ مریض اس مہلک وائرس کا شکار ہوجائے تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔البتہ ویکیسی نیشن کے ذریعے اس سے بچا جاسکتا ہے اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو اس سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔