.

اجمل قصاب زندہ ہے:استاد کا عدالت میں انکشاف

صدر معلم نے حملہ آور کے ہم نام طالب علم کا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے تجارتی شہر ممبئی میں حملوں کے جرم میں پھانسی چڑھنے والے اجمل قصاب کے استاد نے جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ وہ مرا نہیں بلکہ زندہ ہے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمعرات کو اجمل قصاب کی مادرعلمی کے ہیڈماسٹر صاحب پیش ہوئے ہیں۔انھوں نے اجمل قصاب نام کے ایک طالب علم کا ریکارڈ پیش کیا ہے اوربتایا ہے کہ وہ زندہ ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے عدالت میں پیش بھی کیا جاسکتا ہے۔

اسکول کے صدرمعلم مدثر اپنے ساتھ تمام متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کے لیے لائے تھے۔اس میں اجمل قصاب کے اسکول میں داخلے اور اخراج کی تفصیل درج تھی۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی اس عدالت میں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک کالعدم تنظیم کے بعض ارکان کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

عدالت میں جرح کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کا اجمل قصاب سے آخری مرتبہ رابطہ کب ہوا تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ چند روز قبل اجمل قصاب سے ملے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ بھارت میں پھانسی پانے والے اس کے ہم نام کو بالکل بھی نہیں جانتے۔صدر معلم نے پھر اپنی بات دُہرائی کہ ان کا شاگرد زندہ ہے اور اس کو وقتِ ضرورت عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔

یادرہے کہ نومبر 2008ء میں دس مسلح افراد نے بھارت کے تجارتی شہر ممبئی میں بیک وقت ایک ریلوے اسٹیشن ،ہوٹل ،یہود کے ایک مرکز میں حملہ کیا تھا اور تین دن تک ان مقامات کا محاصرہ کیے رکھا تھا اور سیکڑوں لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ان کے بم دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں نو حملہ آور مارے گئے تھے اور صرف اجمل قصاب زندہ بچا تھا اور اس کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اجمل قصاب کے خلاف بھارت کی ایک خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔عدالت نے اس کو پھانسی کی سزا سنائی تھی اور اس کی تمام اپیلیں مسترد ہوجانے کے بعد نومبر 2012ء میں پونے کی جیل میں اس کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔

بھارت نے پاکستان کی ایک کالعدم جہادی تنظیم پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ گرفتار حملہ آور اجمل قصاب پاکستانی شہری ہے۔پاکستانی حکام نے پہلے تو بھارتی دعوے کی تردید کی تھی لیکن بعد میں کہا تھا کہ زندہ پکڑا جانے والا حملہ آور پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔اب اس کے ایک اور ہم نام کے زندہ ہونے پر ایک نئی کہانی شروع ہوگئی ہے۔