فضل اللہ: تحریک طالبان پر گرفت بہتر کرنے کی کوشش

انحصار سید خان سجناں کے ردعمل پر ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تحریک طالبان پاکستان کے پہلے غیر محسود سربراہ ملا فضل اللہ نے تحریک طالبان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلیے آخری پتا پھینکا ہے، تحریک طالبان کے مستقبل کیلیے با لعموم اور فضل اللہ کیلیے با لخصوص یہ فیصلہ زندگی اور موت کے فیصلے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

پچھلے کئی دنوں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں باہمی کشت و خون کا شکار ہونے والے پاکستانی طالبان کے گروپ اپنی اس باہمی لڑائی میں پہلے ہی اپنی قیمتی جانوں کا بھاری نقصان کر چکے ہیں۔ ایسے مرحلے پر جب تحریک طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ لٹک کر رہ جانے والے مذاکرات کے ایشو پر خود بھی عملا معلق ہے، ملا فضل اللہ کا کمانڈر سید خان سجنا کو برطرف کیا جانا اہم واقعہ ہے۔

طالبان کے ذرائع کے محسود قبیلہ طالبان کو افرادی قوت فراہم کرنے کے حوالے سے اور قبائلی علاقہ جات کا ایک مضبوط قبیلہ ہونے کے ناطے بہر طور اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے باوجود خان سجنا کی برطرفی کا اہم ترین مقصد اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔

اس سے پہلے ہی ان عسکری گروپوں کی باہمی لڑائی نے حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر دیا ہے۔ کیونکہ بعض کمانڈر امن مذاکرات کے حامی جبکہ بعض مذاکرات کے مخالف ہیں۔

اگر سجناں اس فیصلے کو قبول کر لیتا ہے اور باہمی لڑائی رک جاتی ہے تو ملا فضل اللہ کے نزدیک طالبان کے تمام گروپوں کیلیے یہ ایک اچھا پیغام ہو گا۔ کمانڈر فضل اللہ کیطرف سے اس سے پہلے ایک سے زائد بار محسود قبائل کو لڑائی روکنے کی جا چکی ہے ۔ اسی طرح کی ایک صلح حقانی نیٹ ورک نے کرائی تھی لیکن بعد ازاں یہ صلح ٹوٹ گئی۔

عالمی سطح پر پذیرائی پانے والی ملالہ یوسف زئی پر حملے کا حکم دینے کی شہرت رکھنے والے ملا فضل اللہ کو تحریک طالبان کا سربراہ پچھلے سال بنایا گیا تھا۔ لیکن اب یہ موقع آیا ہے کہ وہ بطور سربراہ افغانستان میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحریک طالبان کے ایک سینئیر کمانڈر نے کہا '' سینئیر رہنما باہمی لڑائی ختم کرنے کیلیے بار بار اپیلیں کر کے تھک چکے ہیں۔'' تاہم خطرہ ہے کہ نئے فیصلے طالبان کی اس باہمی لڑائی کو پھیلانے کا سبب نہ بن جائیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں