.

جیو کی از سر نو سکیورٹی کلیرنس کی سفارش: رکن پیمرا

''چینل کے وکیل ملبہ کارکن صحافیوں پر ڈالنے کی کوشش میں تھے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں ٹی وی چینلز کے معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی [پیمرا] کے رکن اسرار عباسی نے اتھارٹی کے نظم کو چلانے والی تین رکنی کمیٹی سے علاحدگی کے اعلان کے بعد اپنے باضابطہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''میں نے جیو کی از سر نو سکیرٹی کلیرنس کی سفارش کی ہے لیکن حکومت جیو نیوز اور وزارت دفاع کے درمیان تنازعے میں دوہرا کردار ادا کر رہی ہے، اس مقصد کیلیے پیمرا کو بھی استعمال کرنا چاہتی ہے اس لیے تین رکنی با اختیار اتھارٹی سے خود کو الگ کر کے اپنی غیر جانبداری کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔''

''العربیہ ڈاٹ نیٹ'' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا جیو نیوز کو سماعت کیلیے جتنا زیادہ سے زیادہ وقت دیا جا سکتا تھا دیا گیا ہے، لیکن جیو نے اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہا اور ان الزامات میں سے کسی کا بھی جواب نہیں دیا جو جیو کی سکرین مسلسل آٹھ گھنٹے تک قومی سلامتی کے ادراے کے خلاف استعمال کیے جانے سے متعلق تھے۔ ان کے بقول ''جیو نے اس معاملے پر معافی یا تلافی کی خواہش تو درکنار اپنے تحریری جواب میں ایک لفظ بھی اس بارے میں نہیں کہا ہے۔'' ان کے بقول جیو نیوز کے وکیل اکرم شیخ ایڈووکیٹ کی ساری توجہ اس جانب مبذول رہی کہ جیو پر پاکستان مخالف ہونے کا ا الزام غلط ہے اور اس بارے میں وزارت دفاع نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔''

پیمرا کے رکن اسرار عباسی نے ایک سوال کے جواب میں کہا جیو نیوز نے اپنے تحریری جواب میں اس الزام کو مزید وسعت دی ہے جو پہلے صرف آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ پر لگایا جاتا رہا ہے، اب جیو نے تحریری طور پر لکھا ہے کہ اگر جیو کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری آئِی ایس آئی ، حکومت اور پیمرا پر عاید ہو گی۔'' اسرار عباسی کا کہنا تھا کہ کسی ٹی وی چینل کے خلاف آنے والی شکایت پر معمول یہ ہے کہ پیمرا متعلقہ ادارے کو سات، دس یا چودہ دن کا وقت دیتا ہے تاکہ وہ اپنا موقف اچھی طرح پیش کر سکے، جیو کو زیادہ سے زیادہ وقت یعنی 14 دن دیے گئے لیکن اس نے اپنا تمام نکات کے بجائے صرف ایک نکتے پر توجہ مبذول رکھی ہے۔ ''

ایک سوال کے جواب میں پیمرا کے فاضل رکن نے کہا ''ہم نے جیو سے جواب طلب کرتے ہوئے اسے تین ایسی سی ڈیز اور اس کی ان نشریات کا متن بھجوایا تھا جن کی بنیاد پر وزارت دفاع کی شکایت اور ہمارے اعتراضات تھے، لیکن جیو کے وکیل کو اس چیز کا علم ہی نہ تھا کہ جیو کو پیمرا کی جانب سے یہ اشیاء موصول ہوئی ہیں، البتہ ان کے معاون وکیل کے علم میں یہ سب کچھ تھا جس نے ''پرسنل ہئیرنگ'' کے موقع پر اکرم شیخ کے استفسار پر انہیں بتایا تھا کہ ایسا مواد موصول ہوا تھا، بد قسمتی سے جیو کے وکیل کا لہجہ تک نامناسب تھا۔''

انہوں نے کہا ''لیکن ہم نے بدتمیزی کو بھی برداشت کیا جبکہ جیو کے وکیل نے جیو کی غلطی کی ذمہ داری جیو کے ایڈیٹوریل بورڈ پر ڈالنے کی راہ بھی پیمرا کو سجھانے کی کوشش کی، لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اب تک جیو نے اپنے طور پر کبھی ایدیٹوریل بورڈ کے کسی رکن یا پورے بورڈ کو سزا دی ہے؟ تو جواب نفی میں تھا، اس لیے جیو کے وکیل کی طرف سے ملبہ صحافی کارکنوں پر ڈالنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔''

پیمرا رکن نے کہا ''جیو کے اپنے طے کردہ اصول نمبر چھ کے مطابق بھی 19 اپریل کو شام سے نصف شب تک کی کی نشریات ناواجب تھیں، اسی طرح پیمرا قوانین کی بحی کھلی خلاف ورزی پر مبنی تھیں، اسی بنیاد پر ذاتی سماعت کے بعد جو سفارشات میری طرف سے پیمرا اتھارٹی کو بھجوائی گئی ہیں ان میں جیو کی از سر نو سکیورٹی کلینرنس کی سفارش، کے علاوہ لائسنس کی معطلی، نیز یہ بھی سفارش شامل ہے کہ اگر اتھارٹی جیو کو بند کرنا چاہے کو پیمرا قواعد کی دفعہ 30 کے تحت کونسل آف کملینٹ سے بھی رائے جائے۔''

انہوں نے وضاحت کرتے ہو ئے کہا در اصل یہی نکتہ اٹھانے کی حکومتی ارکان نے کوشش کی ہے کہ یہ درخواست پہلے سی او سی کے پاس آنی چاہیے تھی، اگرچہ اتھارٹی اس سے پہلے ذاتی سماعت کی تائید کر چکی ہے، اب اس مرحلے پر نئی رائے سامنے لانے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہیں ہے کہ ''حکومت نے ایک ہاتھ میں وزارت دفاع کے حوالے سے جیو کے خلاف کارروائی کیلیے درخواست پکڑی ہوئی ہے اور دوسرے ہاتھ سے اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے، یہ خالصتا دوہرا معیار ہے، صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والی بات ہے، اس دوہرے معیار کا حصہ بننےسے بچنے کیلیے میں نے تین رکنی کمیٹی سے الگ ہونا بہتر سمجھا ہے، تاہم 17 تاریخ کو پیمرا میٹنگ می٘ موجود ہوں گا اور اپنی سفارشات کا دفاع کروں گا ۔''

واضح رہے یہ تین رکنی کمیٹی حکومت نے سابق چئیر میں پیمرا چوہدری رشید کی برطرفی کے اتھارٹی کے معاملات چلانے کیلیے قائم کی تھی۔ اس کمیٹی کو عدلات میں چیلنج کیا گیا تو عدالت نے بھی اس کے حق میں حکم دیا اور تین رکنی کمیٹی کو اتھارٹی کے اختیارات چلانے کا اختیار دیا۔

اسرا ر عباسی نے کہا پاکستان میں کارکن صحافیوں کی آزادی میڈیا سے متعلق کمرشل کمپنیاں استعمال کرتی ہیں لیکن جب قانون کا سامنا کرنے کی بات آتی ہے تو کارکن صحافیوں کو سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ استحصال کی ایک ایک شکل ہے، اسی کی وجہ سے آزادی صحافت کا فقدان رہا ہے۔'' اسی گروپ کا سپورٹس چینل 'جیو سپر' غیر قانونی طور کام کر رہا ہے اور یہ سلسلہ 2011 سے جاری ہے اسے بھی اب چیک کیے جانے کی سفارش کی گئی یے، تاہم قومی سلامتی کے ادراے کو رگیدنا بہت حساس معاملہ ہے اس پر سزا ہوئِی تو جسے شکایت ہو وہ عدالت میں اسے چیلنج کر سکتا ہے۔''