.

عمران خان کا الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف اور ہم نوا جماعتوں کی مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک نئے اور مکمل طور پر آزاد الیکشن کمیشن کے قیام اور قومی اسمبلی کے چارحلقوں میں گذشتہ سال 11 مئی کو ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کا مطالبہ کیا ہے۔

عمران خان کی جماعت نے ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اور عوامی مسلم لیگ کے ساتھ مل کر اتوار کو اسلام آباد اور ملک کے دوسرے شہروں میں 11 مئی 2013 کو منعقدہ عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کے خلاف ریلیاں نکالی ہیں اور جلسے،جلوس منعقد کیے ہیں۔

پی ٹی آئی نے اپنی عوامی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے واقع ڈی چوک میں کیا ہے۔اس اجتماع میں شرکت کے لیے ملک بھر سے اس جماعت کے کارکنان قافلوں کی شکل میں پہنچے تھے۔پی ٹی آئی اور اس کی ہمنوا جماعتوں نے اس ریلی کے شرکاء کی تعداد ہزاروں میں بتائی ہے لیکن سرکاری حکام اور میڈیا کے نمائندوں کے مطابق ریلی کے شرکاء کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔

اتوار کی شام عمران خان نے اپنے کارکنوں سے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ وہ ایک نیا پاکستان بنائیں گے۔انھوں نے اپنا یہ مطالبہ دُہرایا کہ جن لوگوں نے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا تھا،انھیں سزائیں دی جائیں اور صرف چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کردی جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ جو خود کرپشن کرکے برسر اقتدار آئے ہیں، وہ بدعنوانیوں کا کیسے خاتمہ کرسکتے ہیں۔ان کے بہ قول مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے گذشتہ دس ماہ میں بجلی کی قیمت دُگنا کردی ہے اور 500 ارب روپے گردشی قرضوں کے لیے دیے ہیں۔یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے؟

انھوں نے حکومت کی جانب سے اسلام آباد اور راول پنڈی میں شروع کیے گئے میٹروبس کے منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق اس منصوبے کی چار ارب روپے میں تکمیل ہونی چاہیے لیکن یہاں 24 ارب روپے میں میٹرو بس شروع کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہے،ملک کی تقدیر تبدیل کرنے کے لیے انھوں نے تحریک چلائی ہے،اب یہ سلسلہ رکے گا نہیں،ہم نیا پاکستان چاہتے ہیں،اس میں نیوٹرل ایمپائر چاہتے ہیں اور صاف ستھرا میچ چاہتے ہیں۔ہم دھاندلی نہیں چاہتے ہیں مگر گذشتہ سال 11 مئی کو ایمپائروں کو ساتھ ملا کر میچ کھیلا گیا تھا۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں کراچی میں 19 اپریل کو قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے ملک کے معروف صحافی حامد میر کی آزادی اظہار کے لیے کوششوں کو سراہا لیکن انھوں نے جیو ٹی وی ،جنگ گروپ اور اس کے مالک میر شکیل الرحمان کے گذشتہ عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں میں کردار پر کڑی تنقید کی۔واضح رہے کہ وہ عمران خان نے جیو ٹی وی اور روزنامہ جنگ کا بائیکاٹ کررکھا ہے اور وہ اس گروپ کو گذشتہ عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کا ایک کردار قرار دے رہے ہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت نے عمران خان کی جماعت کی ریلی کو روکنے کے لیے کوئی سخت اقدام نہیں کیا اور پولیس کو بھی نرم روی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔اس وجہ سے کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔البتہ بعض شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکنان نے پولیس پر اپنے جلوسوں کو روکنے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ اس جماعت کے منچلے کارکنوں نے بعض جگہوں پر ہلڑبازی کا مظاہرہ کیا ہے۔اسلام آباد میں طے شدہ روٹ سے ہٹ کر دوسرے راستوں سے گاڑیوں کے قافلے جلسہ گاہ کی جانب لے جانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑا اور بعض علاقوں میں پی ٹی آئی کی ریلیوں کی وجہ سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔