.

خیبر ایجنسی سے متصل علاقے میں امریکی ڈرون حملہ

حملے میں تین شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے نیم قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحدی علاقے میں ڈرون حملے کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔

معاصر عزیر "ڈان" نے نیم قبائلی خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحدی علاقے میں ایک ڈرون حملے میں کم سے کم سے تین شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' نے پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ "بدھ کی صبح ان کی جغرافیائی حدود میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ہے تاہم سرحد کے پار سے ایسے ایک حملے میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔"

خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے یہ حملہ سرحد کے قریب افغانستان کے صوبے ننگرہار کے علاقے نازیان میں ہوا ہے۔ ان کے مطابق نازیان کے دو دیہات نخترناؤ اور چرچنڈوں کنڈاؤ میں ایک شدت پسند تنظیم اماراتِ اسلامی کے مراکز ہیں اور اس ڈرون حملے میں ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ڈرون حملے میں تین راکٹ داغے گئے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اگر خیبیر ایجنسی میں اس ڈرون حملے کی اطلاع درست ہے تو یہ رواں سال پاکستان کے کسی بھی قبائلی علاقے میں ہونے والا یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔

اس سے قبل گذشتہ سال 29 دستمبر کو شمالی وزیرستان میں ہوا تھا جس میں تین شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔ قبل ازیں 2013 میں 26 دسمبر کو بھی شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں چار شدت پسند مارئے گئے تھے۔

خیبر ایجنسی کا یہ علاقہ افغان سرحد سے متصل ہے جہاں پر القاعدہ سے تعلق رہنے والے شدت پسندوں کے علاوہ کالعدم تحریکِ پاکستان کے شدت پسندوں کی بھی پناہ گاہیں موجودہ ہیں۔

ماضی میں بھی قبائلی علاقوں میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ان حملوں کی فوری بندش کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ یہ حملے اس کی خودمختاری اور اسلامتی کی خلاف وزری ہیں۔

حال ہی میں پاکستانی علاقوں میں مسلسل ڈرون حملوں کے خلاف صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے نیٹو سپلائی کی بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرتے ہوئے طورخم سرحد سے افغانستان جانے والی رسد کی فراہمی معطل کردی تھی۔

گذشتہ سال امریکی ڈرون حملوں میں اضافے کے بعد قومی اسمبلی میں ان حملوں کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور کی گئی تھی۔ قرارداد میں ڈرون حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔