.

فاٹا کے مکینوں کے لیے پولیو کے قطرے پینا لازم!

فاٹا سے بندوبستی علاقوں میں داخلہ باضابطہ بنانے کی ذمے داری پاک فوج کے سپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے مکینوں کے لیے پولیو کے قطرے پینا لازمی قرار دے دیا ہے۔فاٹا کے مکین پولیو کے قطرے نہیں پیتے ہیں تو وہ پھر ملک کے بندوبستی علاقوں میں داخل بھی نہیں ہوسکیں گے۔

وزیراعظم نے فاٹا اور بندوبستی علاقوں کے درمیان تمام گذرگاہوں سے قبائلیوں کی نقل وحرکت اور ان کے بندوبستی علاقوں میں داخلے کو باضابط بنانے کی ذمے داری پاکستان آرمی کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انسداد پولیو کی قومی رابطہ کار عائشہ رضا فاروق نے اسلام آباد میں جمعرات کو میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور انھیں وفاقی اور صوبائی سطح پر پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔وزیراعظم نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو پولیو سے پاک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں والدین پولیو سے اپاہج بچوں کو نہ دیکھیں۔

وزیراعظم نے قومی رابطہ کار کو ہدایت کی ہے کہ وہ گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان سے ملاقات کریں تاکہ صوبے میں پولیو ورکروں کی بہتر رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔انھوں نے پولیو کے لیے قومی ٹاسک فورس کا بھی جلد اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی سفارشات

درایں اثناء پاکستان نے بیرون ملک سفر پر جانے والے شہریوں کے لیے پولیو ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ سے متعلق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سفارشات پر یکم جون سے عمل درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے علاوہ خانہ جنگی کا شکار شام اور افریقی ملک کیمرون سے بیرون ملک جانے والوں پر ویکسی نیشن سرٹفیکیٹ پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس سال اب تک دنیا بھر میں پولیو کے چوہتر کیس سامنے آئے ہیں اور ان میں انسٹھ صرف پاکستان میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی عہدے دار نیما عابد نے کہا ہے کہ حالیہ شواہد کے مطابق ان تینوں ممالک سے ہی حال ہی میں پولیو کا وائرس برآمد ہوا ہے اور ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ڈبلیو ایچ او کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے چند ہفتے درکار ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی ابتدائی طور پر تین ماہ کے لیے ہوگی۔اس کے بعد اس میں توسیع بھی جاسکتی ہے۔

وفاقی وزارت صحت کے ترجمان مظہر نثار نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ تمام بندرگاہوں ،ہوائی اڈوں ،سرحدی گذرگاہوں اور ملک کے تمام اضلاع میں مراکزصحت پر پولیو کی ویکسی نیشن کی سہولت مہیا کردی گئی ہے۔یکم جون کے بعد پاکستان سے بیرون ملک جانے والے کسی بھی شخص کو ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ درکار ہوگا۔انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قیام کرنے والے غیرملکیوں کو بھی باہر جانے کی صورت میں ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں پولیو کے کیسوں میں اضافے کے پیش نظر ملک سے باہر جانے والوں پر سخت سفری پابندیاں عاید کرنے کی سفارش کی ہے اور اس مہلک مرض کے انسداد کے لیے نئے رہ نما اصول جاری کیے ہیں۔

پاکستان کے علاوہ نائیجیریا اور افغانستان میں پولیو کا مہلک وائرس وبائی شکل اختیار کرچکا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے ان تینوں سمیت دس ممالک میں پولیو وائرس پائے جانے کی اطلاعات کے بعد گذشتہ ہفتے جنیوا میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔اس اجلاس میں صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد ان ممالک سے بیرون ملک جانے کے خواہاں کسی بھی شخص کے لیے پولیو کی ویکسی نیشن کی سفارش کی گئی ہے اور ان کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پولیو سے بچاؤ اور اس کا وائرس ناکارہ کرنے والی ویکیسن استعمال کریں اور بیرون ملک روانہ ہونے کے وقت ویکسی نیشن کا بین الاقوامی سرٹیفیکیٹ پیش کریں۔