پاکستانی فوج کے سربراہ افغانستان کے ایک روزہ دورے پر

افغانستان.پاکستان سرحدی کشیدگی پر کابل میں سہہ فریقی مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان، پاکستان کے فوجی سربراہان اور افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈر کے درمیان سہہ فریقی مذاکرات آج بروز پیر کو کابل میں ہو رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ایک روزہ دورے پر آج کابل پہنچ رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بدامنی اور افغان صوبے کنڑ میں پاکستان کی جانب سے راکٹ حملوں پر اس سہہ فریقی مذاکرات میں بات چیت ہو گی۔

واضح رہے یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہے ہیں جب گذشتہ ہفتے افغان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپوں ایک افغان فوجی کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو افغانستان کے فوجی سربراہ جنرل شیر محمد کریمی، پاکستانی کی فوجی کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈینفورڈ کے درمیان سہہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد افغانستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلو میٹر طویل سرحد ہے جس کی اب تک واضح نشاندہی اور حد بندی نہیں کی جا سکی ہے۔

افغان حکام کا موقف رہا ہے کہ طالبیان شدت پسندوں کے ٹھکانے سرحد پار پاکستانی علاقوں میں ہیں اور ان کا مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرے۔

پاکستان کی سرحد سے افغانستان کے صوبے کنڑ میں راکٹ فائر کیے جانا بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے افغان حکومت نے ہمیشہ پاکستان پر تنقید کی ہے۔

افغان حکومت پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں موجود طالبان گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی حکومت کا افغانستان پر یہ الزام رہا ہے کہ اس نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو پناہ دے رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں