.

الیکشن دھاندلی، وزیر اعظم کے حلقے کا پنڈورا بکس

این اے 68 کے ایک پولنگ سٹیشن میں 779 ووٹ 7879 میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کی مبینہ دھاندلیوں کیخلاف تحریک انصاف کی شروع کی گئی مہم کے ابتدائی نتیجے سے وقتی طور پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے۔ میاں نواز شریف جو کہ ملک کے تیسری بار وزیر اعظم بنے ہیں ایک بالغ نظر سیاستدان ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے ایک انتخابی حلقے این اے 68 کے پولنگ سٹیشن 262 سے کل 1500 ووٹوں میں سے مبینہ طور پر 7879 ووٹ حاصل سب کو حیران کر دیا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے اس سے بھی زیادہ حیران یہ کہہ کر دیا جب کچھ ہی دیر میں اسے محض ٹائپنگ کی غلطی قرار دے دیا ہے۔

یہ انکشاف الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دھاندلیوں کیخلاف ایک سال کی تاخیر سے شروع کیے گئے احتجاج کے بعد کرائی گئی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے یہ الزام تحریک انصاف کی طرف سے لگایا جاتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ پہلے میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن کی اپنی کرائی گئی تحقیقات کے بعد اصل ووٹوں کی تعداد اور استعمال شدہ ووٹوں کے بعد ریٹرننگ افسر کے مرتب کردہ نتائج میں اس قدر حیران کن ووٹ سامنے آئے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے بعض ذمہ داران نے اعلی سطح کا اجلاس بلانے پر بھی غور شروع کر دیا ۔ لیکن بعد ازاں اس کا امکان اس وقت ختم ہو گیا جب اسے ٹائپنگ کی غلطی کا ناام دے دیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق رزلٹ مرتب کرنے کیلیے الیکشن کمیشن کا فراہم کردہ فارم نمبر 14، فارم نمبر15 اور فارم نمبر 16 کا تقابل انتہائی اہم ہو گا جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کیلیے یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہو گا کہ انتخابی نتائج مرتب کرنے والے ذمہ داران میں سے کس نے ہیرا پھیری یا غلطی کا ارتکاب کیا ۔ لیکن اس کی ضرورت صرف اسی صورت ہوگی جب الیکشن کمیشن تحقیقات کو آگے بڑھانا چاہے گا۔ جس کا اب امکان کم ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر تحقیقات کی ضرورت محسوس کی گئی تو این اے 68 کے ریٹرننگ افسر اور متعلقہ پریزائدنگ افسروں کو ان کے ریکارڈ سمیت الیکشن کمیشن میں بلایا جا سکتا ہے۔ جو افسر بھی اس معاملے میں قصور وار پایا گیا اس کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہو گا کہ صرف پولنگ سٹیشن نمر 262 کے ووٹوں کی گنتی میں یہ خوفناک اضافہ ہوا ہے یا باقی پولینگ سٹیشنوں کے نتائج بھی اسی اندازسے مرتب کیے گئے ہیں۔

نیز بعد ازاں اس حلقے کے ضمنی انتخاب میں بھی ایسی ہی مبینہ واردات کا اہتمام تو نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اب تحریک انصاف کی طرف سے چار منتخب کردہ حلقوں کی از سر نو گنتی کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔