.

پاکستانی سکھوں کا مقدس مقامات اور کتب کی توہین پر احتجاج

اسلام آباد میں لاٹھی بردار سکھ مظاہرین پارلیمان کی عمارت میں گھس گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں آباد اقلیتی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی عبادت گاہوں اور مقدس کتب کی توہین کے خلاف دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کیا ہے۔انھوں نے لاٹھیاں اٹھا رکھی تھیں اور وہ اسی طرح نعرے بازی کرتے ہوئے پارلیمان کی عمارت کا بیرونی دروازہ کھول کر اندر گھس گئے۔

اسلام آباد میں جمعہ کو ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لیے لاٹھی بردار سکھ صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا سے سفر کر کے آئے تھے۔وہ صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور میں اپنی مذہبی کتاب گرو گرنتھ صاحب کی توہین کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔واضح رہے کہ پاکستان میں آباد سکھوں کی تعداد چند ہزار ہے اور ان میں زیادہ تر صوبہ سندھ میں رہ رہے ہیں۔

حال ہی میں صوبہ سندھ میں ان کی عبادت گاہوں ، گوردواروں پر حملے کیے گئے ہیں اور وہ اس کے خلاف بھی احتجاج کررہے تھے۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں آزادانہ طور پر اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کے لیے تحفظ مہیا کرے۔حکومت ان کے تمام مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں کی رجسٹریشن کرے اور ان کی نگرانی اور تحفظ کے لیے کلوز سرکٹ کیمرے نصب کیے جائیں۔

سکھوں نے اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمان کے لان میں مختصر دھرنا دیا۔اس دوران ان سے حکومت کے نمائندوں نے مذاکرات کیے۔حکومتی وفد میں مسلم لیگ نواز کے رکن پارلیمان سید ظفرعلی شاہ اور رمیش کمار شامل تھے۔ان سے کامیاب مذاکرات کے بعد سکھ مظاہرین نے اپنا دھرنا ختم کردیا۔

سکھوں کے اس احتجاجی دھرنے کے بعد سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے فون پر بات کی اور ان سے سکھ برادری اور ان کی عبادت گاہوں کو بہتر تحفظ مہیا کرنے کا کہا ہے۔

دریں اثناء اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ افسر آفتاب چیمہ نے بتایا ہے کہ سکھ مظاہرین کی جانب سے پارلیمان کا مرکزی گیٹ کھول کر پارلیمان کی حدود میں داخل ہونے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے جبکہ قومی اسمبلی کے قائم مقام اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے بھی اسلام آباد پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے میں ناکامی کا سخت نوٹس لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے فرائض سے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے۔انھوں نے وزارت داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس سے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے بعد ذمے دار اہلکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔