.

نواز ۔ مودی کی 45 منٹ پر محیط ملاقات ختم

بیٹھک پاک ۔ بھارت تعلقات کی بحالی کا نکتہ آغاز!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان ملاقات ختم ہو گئی۔

منگل کو حیدر آباد ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات اور جامع مذاکرات کی بحالی سمیت مختلف امور زیر غور آ ئے۔ ملاقات میں وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز، سابق سفیر طارق فاطمی اور بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط بھی موجود تھے۔

معاصر عزیز "ڈان نیوز" کے مطابق ملاقات کے دوران نواز شریف نے کہا کہ دونوں ملکوں نے قیمتی وقت اور وسائل کا ضیاع کیا جبکہ ہماری ترجیح عوام کی خدمت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام اسلحے کی دوڑ نہیں چاہتے اور حکومتوں کو غربت، ناخواندگی کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیئے۔
نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کئی ثقافتی اور روایتی قدریں مشترک ہیں جبکہ ان مشترکہ قدروں کو طاقت میں بدلنے کا یہ بہترین وقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاقات پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کے لئے اچھا موقع ہے تاہم اگر ہم ناکام ہوئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اس سے قبل نوازشریف گزشتہ روز ہندوستانی ٹی وی چینل کو اپنے انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ وہ پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کی بحالی اسی مقام سے چاہتے ہیں جہاں سے یہ سلسلہ انیس سو ننانوے میں ٹوٹا تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے تعلقات معمول پر لانے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ آئندہ دو ماہ کے دوران دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ کی ملاقات کا شیڈول طے پانے کا بھی امکان ہے۔