.

عدالتِ عالیہ لاہور کے باہرعورت غیرت کے نام پر سنگسار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں عدالتِ عالیہ کے باہر ایک پچیس سالہ عورت کو پسند کی شادی کرنے پر اس کے والد ،بھائیوں اور خاندان کے دوسرے افراد نے اینٹیں اور پتھر مار مار کر موت سے ہم کنار کردیا ہے۔

لاہور کے ایک اعلیٰ پولیس افسر عمر چیمہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ فرزانہ اقبال منگل کی صبح شہر کی مرکزی اور مشہورشاہراہ مال روڈ پر واقع عدالتِ عالیہ کے باہر اس کے کھلنے کا انتظار کررہی تھی۔اس دوران کوئی درجن بھر افراد نے اس پر اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کردیا جس سے اس کے سر میں شدید چوٹیں آئیں۔اس کو فوری طورپر اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔

عمر چیمہ نے بتایا کہ اس پر حملہ آوروں میں اس کا والد، دوبھائی اور سابق منگیتر بھی شامل تھا۔اس کے والد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے مگر باقی حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔اس کے والد نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق فرزانہ اقبال کی اپنے کزن سے منگنی ہوئی تھی لیکن اس نے خاندان کی مرضی کے برعکس کسی اور مرد سے شادی کرلی جس پر اس کے خاندان نے اس شخص کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرادیا تھا۔اس پر مقتولہ نے عدالتِ عالیہ میں درخواست دائر کردی اور اس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ہر سال قریباً ایک ہزار عورتیں غیرت کے نام پر اپنے خاندان کے افراد کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں۔یہ اعداد وشمار ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے فراہم کردہ ہیں اور اس نے یہ اخباری رپورٹس کی بنیاد پر اکٹھے کیے ہیں۔اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ملک میں غیرت کے نام پر مرنے والی عورتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات تو اخبارات میں رپورٹ ہی نہیں ہوتے جبکہ حکومت کا محکمہ شماریات یا کوئی اور ادارہ اس طرح کے اعدادوشمار اکٹھے نہیں کرتا ہے۔

پسند کی شادی کرنے والی پڑھی لکھی لڑکیاں تو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرلیتی ہیں جہاں ان میں سے بعض کی دادرسی ہوجاتی ہے اور عدالتیں بالعموم ایسی لڑکیوں کو ان کے خاوند یا پھرمقدمے کا فیصلہ ہونے تک دارالامان میں بھجوا دیتی ہیں۔

تاہم پھر بھی ایسی لڑکیوں کو جان کا خطرہ ہوتا ہے اور ان میں سے بہت سی اپنے بھائیوں یا خاندان کے دوسرے افراد کے ہاتھوں بڑی بے دردی سے ماری جاتی ہیں۔ان کے نامزد قاتلوں کے خلاف عدالتوں میں مقدمے چلتے ہیں تو لواحقین ،جو ان کے ہم نوا خاندان ہی کے دوسرے افراد ہوتے ہیں،انھیں معاف کردیتے ہیں۔