.

کشمیر: آرٹیکل 370 پر بحث، بھارت نواز بھی ناراض

اذان فجر کی بندش کا مطالبہ بھی ووٹ بنک بڑھانے کا نسخہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متنازعہ شہرت رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی 'بی جے پی' کے رہنما نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی دونوں طرف کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں جاری اس بحث کو بھارتی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے اسے فی الحال بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی بحث چھیڑ کر ثانوی بنا دیا ہے۔ جتیندر سنگھ نے تین روز پہلے کہا تھا: ''بی جے پی حکومت نے کشمیر کو خصوصی مرتبہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔''

بی جے پی حکومت نے اپنے ایک وزیر کے ذریعے بظاہر ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس کی عملی صورت کم از کم موجودہ لوک سبھا کیلیے ممکن نہیں ہے، تاہم اپنی اس قانونی اور آئینی بے چارگی کو حکمران جماعت اگلے انتخابات میں بھاری مینڈیٹ کے لیے اپنی طاقت بنا سکتی ہے۔

دوسری جانب بی جے پی کی ان آشاوں کے رد عمل میں کشمیر میں بھارت نواز سیاسی جماعتیں کم از کم ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کا مطالبہ سامنے لا سکتی ہیں، جبکہ بھارت سے آزادی کی حامی کشمیری جماعتیں اور نوجوان پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ میدان میں اترنے کا جواز پا سکتے ہیں۔ تاہم بی جے پی کا ملک بھر میں پھیلا ووٹر زیادہ تناٶ کے ماحول میں پارٹی کے ساتھ اور زیادہ محبت بڑھانے پر مجبور پو گا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، جن کی انتخابی مہم کا عمومی موضوع پاکستان تھا، نے فی الحال اپنی توجہ اندرونی ایشوز اور نئے جھگڑوں پر مرکوز کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ اس سلسلے میں حکمت عملی میں یہ بہرحال خیال رکھا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کو ہدف بنایا جائے جس کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور جس کا ذکر آتے ہی پاکستان پر تنقید اور دشنام کا موقع دستیاب کر لیا جاتا ہے۔

اس غرض کیلیے بھارت کی مرکزی حکومت دستور کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرنے پر سوچ رہی ہے جو پہلے ہی دن سے کشمیر کو خصوصی سٹیٹس دیتی ہے۔ اگرچہ بھارتی دستور کی اس شق پر کم از کم ساٹھ برسوں سے اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ دستور کی شق 370 کے تحت بنیادی تقاضا تھا کہ کشمیر کا الگ سپریم کورٹ ہو، الگ صدر اور الگ وزیر اعظم ہو، لیکن برسوں سے ایسا نہیں کیا جا رہا ہے۔

اب مزید ''بہتری'' لانے کی بی جے پی کی خواہش ایک بڑی خرابی کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ اس کی فوری علامات خاندانی طور پر بھارت نواز سمجھے جانے والے ریاستی وزیر اعلی عمر عبداللہ کا رد عمل ہے ۔ ان کا کہنا ہے ''یہ درست ہے کہ بی جے پی کی اپنی مجبوریاں اور اپنا ایجنڈا ہے لیکن جس طرح ریاست جموں و کشمیر کو آتے ہی نشانہ بنایا گیا ہے اس سے کشمیری عوام کو دھچکہ لگا ہے ''

عمر عبداللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ''بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 کو قانونی طور پر اس وقت تک ختم نہیں کیا جا سکتا جب تک پارلیمنٹ کی حیثیت دستوریہ کی نہ ہو، اگر ہمارے خصوصی نمائندے کو ڈسٹرب کیا گیا تو پھر کوئی بھی کشمیر نہیں آ سکے گا۔''

ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محبوبہ مفتی بھی خاندانی طور پر بھارت نواز ہیں لیکن اس معاملے میں ان کی رائے بھی بڑی واضح اور صاف ہے کہ ''بھارتی وزیر کا بیان ریاست کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول ''سچ یہ ہے کہ آرٹیکل 370 کو کوئی چھو بھی نہیں سکتا ہے۔''

محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم نریبندر مودی سے اس معاملے کا نوٹس لینے اور 370 کے بارے میں بیان دینے والے وزیر کو حدود کے اندر رہنے کی ہدایت کرنے کیلیے کہا ہے کیونکہ کشمیر کے عوام پہلے ہی بھارت سے گریز کے راستے پر ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر کو قابو میں رکھنے کیلیے بھارت نے اپنی سات لاکھ سے زاید فوج کو پچھلی دو دہائیوں سے تعینات کر رکھا ہے۔ ریاست میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی بھارت کے جمہوری چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ اسی ریاست میں عسکری پسندی کا رجحان رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ "بھارت کے آئین کو ہم نہ پہلے مانتے ہیں نہ آئندہ تسلیم کریں گے بلکہ بھارت کے ایک ایک فوجی کو ریاست جموں و کشمیر سے نکال کر دم لیں گے۔"

ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے کشمیری نوجوان بھارتی جبر کا صرف کشمیر میں نشانہ بنتے تھے اب پورے ہندوستان میں کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس لیے نریندر مودی کی سرکار ان جماعتوں کو بھی جنجھوڑنے کیلیے کافی ہے جو بندوق کی مخالفت کرتے تھے یا بندوق چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

کشمیر کے خصوصی مرتبے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے ساتھ ہی نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے پر غیر معمولی طور پر خوشی کا شکار ہونے والے انتہا پسند ہندووں کی طرف سے پورے بھارت میں اذان فجر پر پابندی کے مطالبے میں پیدا ہونے والی شدت نریندر مودی کے اندرون بھارت رجحان کا پیمانہ بن سکتا ہے۔

اس صورت میں نریندر مودی کی زیر قیادت پاک۔بھارت تعلقات کے موضوع کو مزید پس منظر میں دھکیلا جا سکتا ہے۔ بھارتی مبصرین کے مطابق ایسا کرنا بی جے پی حکومت کیلیے بعض ریاستوں میں متوقع انتخابات سے پہلے کرنا سیاسی حکمت عملی کے لیے ضروری ہے کہ ایسی صورت بی جے پیکے اپنے ووٹ بنک کو قائم رکھنے کیلیے کامیاب رہ سکتی ہے۔