.

شمالی وزیرستان: بم دھماکے میں تین فوجی شہید

پاک آرمی نے پٹرولنگ ٹیم پر بم حملے کی تصدیق کردی، دو فوجی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں تین فوجی شہید اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی حکام کے مطابق بم دھماکا شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے نزدیک ہوا ہے۔اس وقت فوج کی ایک گشتی ٹیم بنوں ،میران شاہ روڈ پر ایک چیک پوسٹ کے قیام کے لیے جگہ کا معائنہ کررہی تھی کہ اس دوران سڑک پر نصب بارودی مواد کا دھماکا ہوگیا۔

ایک سینیر سکیورٹی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ میران شاہ سے مشرق میں قریباً چھبیس کلومیٹر دور واقع علاقے میں پیش آیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ عارضی چیک پوائںٹ کے قیام سے قبل طے شدہ معیاری طریق کار کے مطابق پیدل پیٹرولنگ ٹیم علاقے کا معائنہ کررہی تھی۔

پاک فوج کے ایک ترجمان نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی صبح قلعہ نوشر کے نزدیک دہشت گردوں کے سڑک کے کنارے نصب کردہ دو بموں کے دھماکوں ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں دو فوجی شہید اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔بعد میں ان میں سے ایک فوجی اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔

واضح رہے کہ شمال مغرب میں واقع وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور وادی سوات میں 2007ء میں کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار بند ہونے کے بعد سے بم دھماکوں اور مسلح حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 6800 سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ٹی ٹی پی کے جنگجو ان حملوں کی ذمے داری قبول کرتے رہے ہیں یا انہی پر دہشت گردی کے حملوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔