.

لاہور: سنگسار عورت کا خاوند پہلی بیوی کا قاتل

وزیراعظم نوازشریف کی پولیس کے سامنے اندوہناک قتل پر سخت کارروائی کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں دوروز پہلے عدالت عالیہ کے عین سامنے ایک حاملہ نوجوان عورت کے اپنے ہی خاندان کے افراد کے ہاتھوں بہیمانہ انداز میں قتل کے واقعہ نے ایک نیا رُخ اختیار کیا ہے اور اس کا خاوند اپنی پہلی بیوی کا قاتل نکلا ہے۔

پینتالیس سالہ محمد اقبال نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ وہ مقتولہ فرزانہ پروین سے محبت کرتا تھا اور اس سے محبت کی شادی رچانے کے لیے اس نے اپنی پہلی بیوی کو گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا تھا۔اس کو بیوی کے قتل کے جرم میں عدالت نے قید کی سزا سنائی تھی لیکن اس مقدمے کے مدعی اس کے بیٹے نے بعد میں اس کو معاف کردیا تھا اور اس طرح اس کو جیل سے رہائی مل گئی تھی۔

فرزانہ پروین کے دن دہاڑے عدالتِ عالیہ لاہور کے احاطے میں اندوہناک قتل کے واقعہ کی تحقیقات کرنے والے سینیر پولیس افسر ذوالفقار حمید نے بتایا ہے کہ وہ اقبال کے ماضی سے متعلق جمعرات کی رات تک حکومت کو رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ''اقبال ایک بدنام زمانہ کردار ہے اور اس نے چھے سال قبل اپنی پہلی بیوی کو قتل کردیا تھا۔اس کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا لیکن وہ کئی ہفتے تک مفرور رہا تھا۔بعد میں اس کو گرفتار کر لیا گیا لیکن خاندان سے صلح صفائی کے بعد اس کو جیل سے رہائی مل گئی تھی۔

اقبال صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ سے تعلق رکھتا ہے اور کاشتکار ہے۔اس کا کہنا ہے کہ مقتولہ فرزانہ کے خاندان نے پہلے ان کی شادی پر رضا مندی ظاہر کی تھی لیکن بعد میں وہ اپنی اس بات سے پھر گئے تھے اور انھوں نے جہیز کے لیے زیادہ رقم دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

فرزانہ پروین تین ماہ کی حاملہ تھی اور اپنے خاوند محمد اقبال کے حق میں عدالت میں بیان دینے کے لیے آئی تھی۔اس کے خاوند کے خلاف مقتولہ کے لواحقین نے اغوا اور زبردستی کی شادی کا مقدمہ درج کرارکھا تھا۔ اس کی اپنے ایک کزن سے منگنی ہوئی تھی لیکن اس نے خاندان کی مرضی کے برعکس خود سے بیس سال بڑی عمر کے شادی شدہ شخص سے پسند کی شادی کرلی تھی جس پر اس کے خاندان نے اس شخص کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرادیا تھا۔

اقبال کے بہ قول ان پر 12 مئی کو مقدمے کی گذشتہ سماعت کے موقع پر بھی حملہ کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔اس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب اس کی بیوی کو اینٹیں اور پتھر مارے جارہے تھے تو عدالت عالیہ میں تعینات پولیس اہلکار اس تمام منظر کو بڑی خاموشی سے دیکھتے رہے تھے اور انھوں نے اس کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی حالانکہ اس کے ایک رشتے دار نے پولیس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے اپنے کپڑے بھی اتار پھینکے تھے۔وہ نیم برہنہ ہوکر مدد کے لیے پکارتا رہا تھا لیکن کسی نے ان کی مدد نہیں کی تھی۔

دریں اثناء وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو عدالت عالیہ لاہور کے باہر پولیس کے سامنے حاملہ خاتون کے اندوہناک قتل کے واقعہ پر فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں وزیراعظم کے دفتر کو فوری رپورٹ پیش کی جائے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ''یہ جُرم بالکل ناقابل قبول ہے اور اس کے ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے''۔عدالت عالیہ لاہور نے بھی اس واقعہ کا ںوٹس لیا ہے اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے اس کی رپورٹ طلب کی ہے۔

واقعہ کی مذمت

پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور میں حاملہ خاتون کے قتل کے اس دل خراش واقعہ کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر مس نیوی پلے نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے ''فوری اور سخت اقدامات'' کرے۔

برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے قتل کو ''بربریت'' قراردیا ہے اور حکومت پاکستان سے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ''مجھے فرزانہ پروین کے ظالمانہ انداز میں قتل سے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔اس کو محبت کی شادی کے لیے اپنے بنیادی حق کو بروئے کار لانے پر موت سے ہم کنار کردیا گیا ہے''۔

ولیم ہیگ نے کہا کہ ''غیرت کے نام پر قتل میں بالکل بھی کوئی غیرت نہیں ہے اور میں پاکستانی حکومت پر زوردوں گا کہ وہ اس بہیمانہ عمل کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔میں پاکستانی حکام سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس ظالمانہ قتل کی مکمل تحقیقات کریں اور اس کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں''۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ہر سال قریباً ایک ہزار عورتیں غیرت کے نام پر اپنے خاندان کے افراد کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں۔انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سال 2013ء کے دوران غیرت کے نام پر 869 عورتیں ماری گئی تھیں۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں غیرت کے نام پر مرنے والی عورتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات تو اخبارات میں رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں جبکہ حکومت کا محکمہ شماریات یا کوئی اور ادارہ اس طرح کے اعدادوشمار اکٹھے نہیں کرتا ہے۔