پاکستان کی حکمران جماعت کے صوبائی رکن اسمبلی اغوا

اغوا کاروں نے پانچ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے: اہل خانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے صوبہ پنجاب سے حکمران جماعت کے ایک صوبائی قانون ساز کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔

پولیس کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی رانا جمیل حسن اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ہفتہ کے روز اسلام آباد جا رہے تھے کہ انھیں پنڈی بھٹیاں کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا۔

گذشتہ سال گیارہ مئی کے عام انتخابات میں رانا جمیل حسن صوبائی اسمبلی کے انتخابی حلقہ پی پی-174 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

اغوا کیے گئے رکن اسمبلی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے ان کی رہائی کے بدلے پانچ کروڑ روپے تاوان دینے کا مطالبہ کیا ہے اور رقم کی ادائیگی کے لیے دو دن کا وقت دیا۔

پولیس نے اس واقعے کے بعد سے کارروائی شروع کر دی لیکن تاحال نہ تو یرغمال قانون ساز سے متعلق کوئی اطلاع موصول ہو سکی ہے اور نہ انھیں اغوا کرنے والے فرد یا گروہ کا پتا چل سکا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا کے وقت رانا جمیل حسن کے ساتھ ان کی سکیورٹی موجود نہیں تھی۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں حالیہ مہینوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ اس سے قبل بھی کئی اہم شخصیات کو اغوا کیا جا چکا ہے۔

پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے کے علاوہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کو اغوا ہوئے بھی سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جب کہ اتنا ہی عرصہ پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کے اغوا کو بھی ہو چکا ہے۔

اطلاع ملتے ہیں وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے اس واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں