.

الطاف حسین سے ملاقات کے متمنی تین افراد کے نام طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے گرفتار قائد الطاف حسین سے ملاقات اور روابط کے خلاف تین افراد کے نام طلب کر لیے ہیں جو ان سے دوران حراست ملاقات کر سکیں گے۔

یہ تینوں افراد ان کے رشتے دار یا پھر ان کے دوست ہوسکتے ہیں۔اس اطلاع کے سامنے آنے سے قبل ایم کیو ایم کے ایک لیڈر واسع جلیل نے دعویٰ کیا تھا کہ لندن پولیس اگرچہ الطاف حسین سے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلہ میں پوچھ تاچھ کرنا چاہتی ہے لیکن ان کی خراب صحت کے پیش نظر انھیں اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے رہ نما اپنے قائد کی گرفتاری کے متعلق گذشتہ روز سے مختلف دعوے کررہے ہیں۔پہلے تو وہ کئی گھنٹے تک ان کی گرفتاری کی تردید کرتے رہے تھے اور جب انھیں اس خبر کا یقین ہوگیا تو پھر وہ ایسے بیانات جاری کرنا شروع ہوگئے جن سے الطاف حسین کی ایک ملزم کی حیثیت سے گرفتاری کے بعد ان کی بے توقیری کا پہلو نہ نکلتا ہو۔

اسی ضمن میں واسع جلیل کا یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ان کے زیرحراست قائد کے مختلف ٹیسٹ لیے جائیں گے اور اس کے بعد ان سے تفتیش کا عمل آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔البتہ انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ ایم کیو ایم لندن پولیس سے منی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں تعاون کررہی ہے۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کے چالیس پینتالیس اہلکاروں نے منگل کی صبح لندن کے شمال مغرب میں ایجوئر روڈ پر واقع الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کی تھی۔ان کے ساتھ فورنزک ماہرین کی ٹیم بھی تھی۔ذرائع کے مطابق پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد کو پکڑنے کے علاوہ گھر سے بہت سی دستاویزات اپنے قبضے میں لے لی تھیں اور انھیں تھیلوں میں بند کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اس چھاپہ مار کارروائی کے بعد چھے پولیس اہلکاروں کو الطاف حسین کی رہائش گاہ پر تعینات کردیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی ضمانت پر رہائی کی صورت میں رہائش گاہ کا کنٹرول انہی کے حوالے کیا جائے گا۔

دریں اثناء وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد سے بدھ کو ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ان سے ایم ایم کیو کے سربراہ کی صحت کے بارے میں دریافت کیا ہے۔

انھوں نے ڈاکٹر عشرت العباد کو وفاقی حکومت کی جانب سے الطاف حسین کی گرفتاری سے پیدا ہونے والی صورت حال اور ان کی خراب صحت کے حوالے سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔وزیراعظم نے کہا کہ الطاف حسین پاکستان کے شہری تھے اور حکومت ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

یادرہے کہ الطاف حسین 1992ء سے برطانیہ میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ تب کراچی میں لسانی بنیاد پر خونریزی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد بھاگ کر لندن چلے گئے تھے اور انھوں نے 2002ء میں برطانوی شہریت حاصل کر لی تھی۔برطانوی پولیس نے قبل ازیں 2012ء اور 2013ء میں بھی ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے بھاری مقدار میں کرنسی نوٹ برآمد کیے تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ان کی رہائش گاہ سے ڈھائی لاکھ پاؤنڈز برآمد کیے گئے تھے اور انھی کی بنیاد پر ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔برطانوی قانون کے تحت انھیں اس مقدمے میں زیادہ سے زیادہ چودہ سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔اگر ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرانے کا الزام بھی ثابت ہوجاتا ہے تو اس کی انھیں الگ سے سزا بھگتنا پڑَے گی۔