.

بلوچستان: پاکستانی فورسز کی کارروائی میں 10 جنگجو ہلاک

ضلع ڈیرہ بگٹی میں چار روز میں 40 علاحدگی پسند جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں پیرا ملٹری دستوں نے ایک کارروائی میں دس مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

سرکاری حکام کی اطلاع کے مطابق پیرا ملٹری دستوں نے اتوار کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مشرق میں واقع ضلع ڈیرہ بگٹی کے قصبے گنڈیاری میں مشتبہ علاحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔تین روز پہلے اسی علاقے میں ایک اور فوجی کارروائی میں تیس مشتبہ جنگجو مارے گئے تھے۔

بلوچستان میں پیراملٹری فورس فرنٹئیر کور کے ترجمان منظور احمد نے ایک بیان میں گنڈیاری میں کالعدم جنگجو تنظیم بلوچستان ری پبلکن آرمی سے تعلق رکھنے والے دس جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ بلوچ ری پبلکن آرمی کے جنگجوؤں کے اس علاقے میں چُھپے ہونے کی اطلاعات ملنے کے بعد اتوار کی صبح ان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تین صوبوں بلوچستان ،سندھ اور پنجاب کے سنگم پرواقع ضلع ڈیرہ بگٹی مٹھی بھر بلوچ علاحدگی پسندوں کی آماج گاہ ہے۔وہ اسی علاقے میں مسافر ٹرینوں ، بسوں،پلوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ معدنی دولت سے مالا مال صوبہ بلوچستان میں بعض بلوچ قبائل اور ان کے مسلح نوجوان گذشتہ قریباً ایک عشرے سے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں اور وہ اپنے تئیں صوبے کی علاحدگی کے لیے محدود پیمانے پر مسلح تحریک چلا آرہے ہیں۔وہ آئے دن سکیورٹی فورسز کے علاوہ اپنے سیاسی ،نسلی ونظریاتی مخالفین پر بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا میں وفتاً فوقتاً بلوچستان میں جاری شورش پسندی میں پڑوسی ممالک اور خاص طور بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں جبکہ ملک کے سراغرساں اور حساس اداروں کے حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ صوبے میں جاری گڑ بڑ میں بہت سی طاقتیں ملوث ہیں اور اس ضمن میں امریکا کا نام نامی بھی لیا جاتا رہا ہے۔