.

اعلیٰ سطح اجلاس میں پاکستان کی قومی سلامتی پرغور

وزیراعظم نوازشریف کے زیر صدارت اجلاس میں اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں داخلی سلامتی کی صورت حال پر غور کیا گیا ہے اور ملک میں جاری عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے مزید مربوط کوششیں کرنے پر زوردیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے منگل کو یہ اجلاس ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد طلب کیا تھا۔اس حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت بیس سے زیادہ شہری جاں بحق ہوئے ہیں اور سات سے دس دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ '' اجلاس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کراچی اور بلوچستان میں داخلی اور علاقائی سکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے''۔

بیان کے مطابق اجلاس میں وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ،چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد ،انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) کے کاؤنٹر انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل ناصر دلاور شاہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔انھوں نے کہا کہ جنگجوؤں کی نقل وحرکت کا سراغ لگانے کے لیے انٹیلی جنس اداروں کو تمام ضروری وسائل مہیا کیے جائیں گے۔

اجلاس میں کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کا نظام بہتر بنانے کی ہدایت کی۔انھوں نے کراچی ہوائی اڈے کے سرد خانے میں پھنس جانے والے سات افراد کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اجلاس کے شرکاء کو افغان سرحد کے نزدیک واقع وادی تیراہ میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بارے میں آگاہ کیا۔اجلاس میں صوبہ بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال اور پاک ایران سرحد پر شیعہ زائرین کی بس پر بم حملے کے واقعے سے پیدا ہونے والی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔اس خودکش حملے میں چوبیس افراد جاں ہوگئے تھے۔

درایں اثناء وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ صوبہ سندھ کو نومبر کے بعد چھے سکیورٹی الرٹ جاری کیے گئے تھے اور ان میں سے دو کراچی کے حوالے سے تھے۔

انھوں نے ایوان کو بتایا کہ کراچی کے ہوائی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی اور ان کی چند گھنٹے کی کارروائی میں سات دہشت گرد مارے گئے تھے۔واضح رہے کہ قبل ازیں سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دس دہشت گردوں کے مرنے کی اطلاع دی گئی تھی لیکن اب وزیرداخلہ نے ان کی تعداد کم کرکے سات کردی ہے۔ان کے بہ قول ان کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے اور ان کی بائیو میٹرکس سے بھی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے۔