.

دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا: نواز شریف

''ضرب عضب'' میں 187 جنگجو مارے گئے ،پاک فوج کے 8 جوان شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شروع کیا گیا 'ضربِ عضب'' آپریشن ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔

وہ سوموار کو پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں پاک فوج کی شمالی وزیرستان میں ملکی اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے آغاز کے ایک روز بعد تقریر کررہے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بڑے صبر وتحمل سے امن بات چیت کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے ساڑھے چار ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ ''دنیا جانتی ہے ایک طرف تو ہم مذاکرات کررہے تھے اور دوسری جانب ہمیں ہی حملوں میں ہدف بنایا جا رہا تھا۔ ہم بات چیت کررہے تھے لیکن اسلام آباد میں عدالتوں سے لے کر کراچی کے ہوائی اڈے تک ہم پر حملے ہو رہے تھے''۔

وزیراعظم نے کہا کہ ''ہماری عبادت گاہوں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا ،ہمارے اسکولوں کو ہدف بنایا گیا۔ہم اس ملک کی قسمت بدل کر رہیں گے اور کسی بھی صورت میں ملک کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے''۔

انھوں نے منتخب ایوان کو بتایا کہ تمام اہم فیصلے سول اور فوجی قیادت کے درمیان باہمی افہام وتفہیم کے ذریعے کیے جارہے ہیں۔ہم نے اپنے فوجیوں کی قربانیوں کے باوجود امن بات چیت کو پہلی ترجیح دی لیکن ہماری یہ کوششیں رائیگاں چلی گئیں۔یہ آپریشن پُرامن ملک کا آغاز ثابت ہوگا''۔

قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا سینیٹ میں بھی وزیر اعظم نے کم وبیش یہی تقریر کی اور ارکان کو آپریشن کے فیصلے کے بارے میں بتایا۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن نے حکومت اور فوج کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

پاک فوج نے حکومت کی ہدایت پر اتوار کو شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف ''ضرب عضب'' (تلوار کی کاری ضرب) کے نام سے بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا اور ہفتے کی رات کے بعد سے پاک فوج کے ساتھ جھڑپوں اور فضائی حملوں میں ایک سو ستاسی جنگجو مارے گئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی جوان شہید ہوگئے ہیں۔ ان کے علاوہ پاک افغان سرحد کے نزدیک نصب ایک بم کے پھٹنے سے چھے فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔

ضرب عضب کے آغاز کے بعد سے پاک افغان سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے اور افغان نیشنل آرمی سے کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے فرار کے راستوں کی ناکہ بندی میں مدد دے۔اس کے علاوہ ملک بھر میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خاص طور پر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے بندوبستی علاقوں کی جانب آنے والے افراد کی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے۔