.

پاکستان: پولیس فائرنگ سے دینی جماعت کے 8 کارکن ہلاک

جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان جہاں سکیورٹی فورسز کے طالبان کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد ملک بھر میں خصوصی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں وہیں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے گڑھ لاہور میں امن و امان کی صورت حال اس وقت سنگین ہو گئی جب تحریک منہاج القرآن کے سات کارکن مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں مارے گئے اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے اہم ترین سیاسی شہر میں علی الصباح سے پولیس اور تحریک منہاج القرآن کے مشتعل کارکنوں کے درمیان وقفے وقفے سے تصادم اور انکھ مچولی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

واضح رہے اس جھگڑے کا آغاز تحریک منہاج القرآن کے کینیڈین شہریت رکھنے والے سربراہ علامہ طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے باہر غیر قانونی طور پر سکیورٹی کے لیے بنائے گئے آہنی اور سیمنٹ کے بیرئیرز کو پولیس کی طرف سے ہٹانے کی خاطر شروع کیے گئے آپریشن سے ہوا۔ پاکستان کے ہر شہر میں حکمران شخصیات ، سکیورٹی اداروں ، سیاسی شخصیات نے اپنی اپنی سکیورٹی کے لیے پختہ رکاوٹیں اپنے دفاتر اور رہائش گاہوں کے باہر سالہا سال سے کھڑی کر رکھی ہیں۔ لیکن حکمران شخصیات اپنے مخالفین کو یہ غیر قانونی حق دینے کو تیار نہیں ہیں۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی ہدایات پر علامہ طاہرالقادری کی رہائشگاہ کو قانون سے متجاوز اقدامات پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ جو اگلے ہفتے حکومت مخلاف تحریک کے لیے کینیڈا سے پاکستان پہنچنے کا اعلاان کیے ہوئے ہیں۔

تقریبا ڈیڑھ عشرہ پہلے خود میاں شہباز شریف کی ماڈل ٹاون میں واقع اپنی رہائش گاہ کے باہر غیر قانونی طور پر کھڑی کی گئی آہنی رکاوٹوں کو اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے بھی اسی طرح قانونی دائرے میں لانے کی کوشش کی تھی۔ خیال رہے آج بھی اہم شخصیات کی رہائش گاہوں کے قریب عملا نو گو ایریا بنے ہوتے ہیں۔

آج منگل کے روز جب پولیس نے منہاج القرآن کے سربراہ کی رہائشگاہ کے باہر علی اصباح بھاری مشینری سے غیر قانونی رکاوٹوں کی توڑ پھوڑ شروع کی تو منہاج القرآن کے ڈنڈا بردار کارکنوں نے مزاحمت کی، جس سے تصادم کی فضا پیدا ہو گئی۔ اس دوران پہلے دونوں طرف سے افراد زخمی ہوئے بعداں مجموعی طور پر منہاج القرآن کے سات کارکن ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہو گئے۔

مشتعل کارکنوں نے بعد ازاں شہر کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج کیا۔ راوی ٹول پلازا اور چونگی امر سدھو کے نزدیک بطور خاص ہنگامہ کیا گیا اور دونوں جگہوں پر میٹرو پس کے روٹ کو بھی زبردستی بلاک کر دیا۔ جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا۔

مبینہ طور پر ایک ایس پی سمیت پولیس کے متعدد اہلکار بھی زخمی ہو گئے ہیں۔ علامہ طاہرالقادری نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اپنی آمد کے اعلان کے باعث اسے حکومت کا بوکھلا جانا قرار دیا ہے۔