.

آپریشن ''ضربِ عضب'' میں مزید 23 جنگجو ہلاک

شمالی وزیرستان کے علاقوں میران شاہ اور غلام خان سے سول آبادی کا انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آرمی کا آپریشن "ضربِ عضب "جاری ہے اور اس میں مزید تئیس جنگجو مارے گئے ہیں ۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شمالی وزیرستان کے پہلاڑی علاقے زرتنگی پر فائرنگ کی اور وہاں دہشت گردوں کا ایک مرکزی مواصلاتی مرکز تباہ کردیا ہے۔اس حملے میں پندرہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب فوج کے ماہر نشانہ بازوں نے ایک اور کارروائی میں آٹھ ازبک دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔وہ میران شاہ،میرعلی روڈ پر بارودی سرنگیں نصب کررہے تھے۔

پاک فوج نے شمالی وزیرستان کے رہائشی علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کے پیش نظر ان کا محاصرہ سخت کردیا ہے اور وہاں سے ان کے فرارکی کوششوں کو ناکام بنایا جارہا ہے ۔آئی ایس پی آرکے مطابق آج میران شاہ اور غلام خان سے سول آبادی کا انخلاء شروع کردیا گیا ہے اورنقل مکانی کرنے والے خاندانوں کومختلف مقامات پر قائم چیک پوسٹوں پر ضروری امداد مہیا کی جارہی ہے۔اس میں خوراک اور ادویہ بھی شامل ہیں ۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے لیے ایک پناہ گزین کیمپ قائم کردیا گیا ہے۔بنوں اور شمالی وزیرستان کے درمیان واقع سید گئی پوسٹ پر اپنا گھربار چھوڑ کر آنے والوں کی رجسٹریشن کی جارہی ہے اور اس کام کی جلد تکمیل کے لیے پاک فوج نے وہاں رجسٹریشن پوائنٹ کی تعداد بڑھا کر بیس کردی ہے۔ان میں سے دس پر خواتین اور دس پوائنٹس پر مردوں کی رجسٹریشن کی جارہی ہے۔

پاکستان آرمی کے بیس سے تیس ہزار جوان ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ''ضرب عضب'' کے نام سے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔گذشتہ پانچ روز کے دوران پاک آرمی کو جنگجوؤں کی جانب سے کوئی زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔فوج لڑاکا طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ساتھ بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔