.

ضربِ عضب:پاک آرمی کی بمباری میں 12 جنگجو ہلاک

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد گھربار چھوڑنے والے افراد کی تعداد دو لاکھ سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشن "ضربِ عضب "جاری رکھا ہوا ہے اور جمعہ کو چھٹے روز کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے مزید بارہ جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ آپریشن کے آغاز کے بعد علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد دولاکھ سے متجاوز ہو گئی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے نواح میں واقع قطب خیل کے علاقے میں جنگجوؤں کے تین ٹھکانوں پر کوبرا ہیلی کاپٹروں اور توپخانے سے بمباری کی گئی ہے اور ماہر نشانہ بازوں نے بھی اس کارروائی میں حصہ لیا ہے۔مرنے والوں میں بعض غیرملکی بھی شامل ہیں۔اس حملے میں جنگجوؤں کے گولہ وبارود کے ایک بڑے ذخیرے کو تباہ کردیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں مزید کہا ہے کہ گذشتہ رات دہشت گردوں کے فرار کی تین کوششیں ناکام بنائی گئی تھیں اور تین مقامی لوگوں کو کوئی شناختی ثبوت نہ ہونے کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔وہ پاک آرمی کے محاصرے میں علاقے سے فرار کی کوشش کررہے تھے۔

میران شاہ اور میرعلی کے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں میں شامل ہوکر فرار کی کوشش کرنے والے چوبیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک علاقے سے دولاکھ افراد کا انخلاء ہوچکا ہے اور ضلع بنوں کے علاقے بکاخیل میں ان بے گھر افراد کے لیے قائم کیے گئے کیمپ میں اب تک صرف گیارہ خاندانوں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی سے چار سو افغان خاندان بھی جمعرات کو سرحدی گاؤں غلام خان کے ذریعے افغانستان واپس چلے گئے ہیں اور انھیں درکار تمام انتظامی معاونت مہیا کی گئی ہے۔

سکیورٹی حکام نے بدھ کو شہری آبادی کے انخلاء میں مدد دینے کے لیے کرفیو میں نرمی کی تھی اور علاقے کے مکینوں کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے خلاف بڑی زمینی کارروائی سے قبل اپنا گھربار چھوڑ جانے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد مقامی قبائل افغانستان کے سرحدی علاقے کی جانب جارہے ہیں یا پھر شمالی وزیرستان کے ساتھ واقع صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور کوہاٹ کی جانب آرہے ہیں۔ بعض خاندان صوبائی دارالحکومت پشاور کا بھی رُخ کررہے ہیں۔

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ارشد خان نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے بنوں میں قریباً ایک لاکھ ستاون ہزار افراد آئے ہیں جہاں ان کو ٹھہرانے کے لیے پناہ گزین کیمپ قائم کیا گیا ہے لیکن ان میں سے بہت سے افراد دوسرے علاقوں میں اپنے رشتے داروں کے ہاں ٹھہرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔جمعہ کی صبح ہزاروں کی تعداد میں مردو خواتین اور بچوں کو پیدل سفر کرکے بنوں کی جانب آتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔شمالی وزیرستان سے بنوں کی جانب آنے والی شاہراہ پر مسافر ویگنوں اور گاڑیوں کا رش تھا جس کی وجہ سے وہ سست رفتاری سے منزل کی جانب بڑھ رہی تھیں۔

بنوں اور شمالی وزیرستان کے درمیان واقع سید گئی پوسٹ پر اپنا گھربار چھوڑ کر آنے والوں کی رجسٹریشن کی جارہی ہے اور اس کام کی جلد تکمیل کے لیے پاک فوج نے وہاں رجسٹریشن پوائنٹ کی تعداد بڑھا کر بیس کردی ہے۔ان میں سے دس پر خواتین اور دس پوائنٹس پر مردوں کی رجسٹریشن کی جارہی ہے۔وہاں خواتین کی معاونت کے لیے خاتون پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ نادرا اور دوسرے متعلقہ اداروں کا عملہ بھی موجود ہے۔