.

عوامی تحریک کے کارکنوں کا قتل، رانا ثناء اللہ فارغ

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر قانون نے استعفیٰ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اپنے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو منگل کے روز لاہور میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے کارکنان کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن پر عہدے سے ہٹا دیا ہے۔پولیس کی فائرنگ سے عوامی تحریک کے نو کارکنان مارے گئے تھے اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

میاں شہباز شریف نے جمعہ کو لاہور میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ انھوں نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مستعفی ہونے کو کہا ہے حالانکہ وہ گذشتہ پندرہ سال سے بڑی دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر توقیر سے بھی استعفیٰ دینے کے لیے کہا ہے اور مظاہرین پر فائرنگ میں ملوث پولیس افسروں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اگر کسی کو حکومت کی عدالتی تحقیقات پر شک ہے تو وہ اس کے بجائے سپریم کورٹ سے واقعے کی عدالتی تحقیقات کے لیے رجوع کرسکتا ہے''۔

میاں شہباز شریف کی نیوز کانفرنس کے بعد وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔پنجاب حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ہے۔ان کی جگہ اب وزیر تعلیم و کھیل رانا مشہود کو صوبائی وزیر قانون بنائے جانے کا امکان ہے۔حکومت نے وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر توقیر کو افسر بکارِ خاص (او ایس ڈی) بنادیا ہے۔

لیکن پی اے ٹی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری حکومت کے ان اقدامات سے مطمئن نہیں ہوئے ہیں. انھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے فیصلوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ڈراما قرار دیا ہے اور میاں شہباز شریف سے کہا ہے کہ وہ اس ڈرامے کو بند کرکے خود مستعفی ہو جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ کو بہت جلد ان کے عہدے پر بحال کر دیا جائے گا۔

علامہ قادری نے صوبائی حکومت کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ یک رکنی عدالتی کمیشن کو بھی مسترد کردیا ہے اور سپریم کورٹ سے اپنے کارکنان کی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے اپنے اس مزعومہ خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ عدالتی کمیشن تمام ذمے داروں کو بے گناہ قرار دے دے گا۔

واضح رہے کہ لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منگل کو پولیس کی فائرنگ سے عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکتوں پر صوبائی حکومت کو ہرطرف سے کڑی تنقید کا سامنا ہے اور حزب مخالف کی جماعتیں وزیراعلیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔