.

وزیرداخلہ کا پی اے ٹی کو اسلام آباد کی جانب مارچ پر انتباہ

اسلام آباد اور راول پنڈی میں عوامی اجتماعات پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے بزعم خویش انقلابی رہ نما ڈاکٹر طاہر القادری کی بیرون ملک سے آمد آمد ہے۔ان کی آمد سے قبل حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن وامان تہ وبالا کرنے کی کسی بھی کوشش پرانتباہ کیا ہے اور اس کے جڑواں شہر راول پنڈی میں عوامی اجتماعات پر پابندی عاید کردی ہے۔

وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان نے اتوار کی شب ایک بیان میں کہا ہے:''اس بات میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو بھی ریلیوں اور دھرنوں کے پردے میں اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی''۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اس حقیقت کے باوجود کہ سیاسی ریلیاں منعقد کرنے کا ہرکسی کو حق حاصل ہے،مگر جو لوگ یہ دعوے کررہے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کو غیر قانونی طریقے سے گرا دیں گے تو انھیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر علامہ قادری لاہور میں آتے تو حکومت کو ان کے ساتھ کوئی ایشو نہیں ہوتا۔تاہم ان کا وفاقی دارالحکومت میں اترنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔سنگین سکیورٹی خطرات کے پیش نظر اب حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ پی اے ٹی کے سربراہ کو بحفاظت لاہور پہنچانے کی ذمے داری پوری کرے''۔

چودھری نثار نے علامہ طاہرالقادری کی آمد کے وقت پر بھی سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت ملک کی تمام سکیورٹی فورسز جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ مسٹر طاہر القادری اس اہم مرحلے پر کیوں سب کچھ سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسی کے ذہن میں یہ شُک نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام آباد کی جانب کل یا مستقبل میں مارچ کی اجازت دی جائے گی۔

کینیڈا میں مقیم علامہ طاہرالقادری نے راول پنڈی میں واقع بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے کا اعلان کررکھا ہے۔وہ لندن سے براستہ دبئی راول پنڈی پہنچ رہے ہیں اور سوموار کی صبح سات بجے ان کی آمد متوقع ہے۔وہ ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد راول لاؤنج میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کریں گے۔اس کے بعد وہ اپنے کارکنوں کے جلوس کی شکل میں صوبائی دارالحکومت لاہور کے لیے روانہ ہوں گے اور جرنیلی سڑک پر واقع شہروں میں دوران سفر اپنے کارکنان کی ریلیوں سے خطاب کریں گے اور وہ منگل کی صبح لاہور پہنچیں گے۔

انھوں نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ''میں پاک آرمی کی جنگجوؤں کے خلاف جنگ کی حمایت کے لیے آرہا ہوں''۔ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا:''اب یہ پاکستان کے غریب عوام کا فرض ہے کہ وہ انقلاب کے لیے اٹھ کھڑے ہوں''۔انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ''اگر ان کے کارکنان کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمے دار وزیراعظم میاں نواز شریف ہوں گے اور ان کی جماعت کے کارکنان وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ کریں گے''۔

حکومت نے ان کی وطن واپسی سے قبل راول پنڈی میں عوامی اجتماعات پر پابندی عاید کردی ہے۔پاکستان کے بعض ٹیلی ویژن چینل نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ حکومت راول پنڈی اوراسلام آباد میں موبائل فون سروس کو بند کرسکتی ہے۔

راول پنڈی کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) ساجد ظفر دل نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے جو اتوار کی دوپہر بارہ بجے سے منگل کی دوپہر بارہ بجے تک نافذ العمل رہے گی۔اس کے تحت چار سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہے۔

علامہ طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں کو نقض امن پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس نے راول پنڈی کے ہوائی اڈے کی جانب جانے والے راستوں کو بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا ہے اور کنفرم ٹکٹوں والے مسافروں کو شٹل سروس مہیا کی جارہی ہے اور انھیں ہوائی اڈے پر پہنچایا جارہا ہے۔راول پنڈی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ تمام تر اقدامات سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کررہی ہے کیونکہ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے پیش نظر دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ ہے۔