.

ضربِ عضب: شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں بمباری

پاک فوج کے فضائی حملوں میں 47 جنگجو ہلاک اور 23 ٹھکانے تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاک آرمی نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں سینتالیس جنگجو ہلاک اور ان کے تئیس ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے علاقے میں بمباری کی ہے۔اس حملے میں ستائیس جنگجو مارے گئے ہیں اور ان کے اسلحہ کے ڈپوؤں سمیت گیارہ ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ جنگی طیاروں نے صوبائی دارالحکومت پشاور کے نزدیک واقع خیبر ایجنسی میں جنگجوؤں کے بارہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور بمباری میں بیس جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

درایں اثناء سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں واقع سول اسپتال میں ایک بڑے خودکش بم حملے کی سازش ناکام بنا دی ہے۔بم دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار اور ایک شہری جاں بحق ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سول اسپتال کے باہر ایک چیک پوسٹ پر بارود سے لدی سنگل کیبن گاڑی کو روکا تھا اور ڈیوٹی پر موجود فوجیوں نے گاڑی کو روکنے کے بعد اس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں چیک پوسٹ سے کوئی ایک سومیٹر کے فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوگیا۔اس سے نزدیک واقع عمارتوں کی چھتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ اگر خودکش حملہ آور کو گاڑی سمیت نہ روکا جاتا اور وہ اسپتال تک پہنچ جاتا تو اس سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا۔

ادھر خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے علاقے میربان لوکی خیل میں ایک مکان پر ایک مارٹر گولہ آکر گرا ہے۔اس واقعے میں ایک خاتون سمیت سات شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔یہ علاقہ وادی تیراہ میں واقع ہے۔مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ مارٹر گولے یا بم حملے کا نشانہ بننے والا مکان خان ولی کوکی خیل کا ملکیتی تھا۔آئی ایس پی آر نے اس واقعہ کے بارے میں فوری طور پر بیان جاری نہیں کیا تھا۔

شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دوسری تنظیموں سے وابستہ وابستہ جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران اب تک چار لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد اپنا گھربار چھوڑ کر نزدیک واقع علاقوں یا پڑوسی ملک افغانستان کی جانب چلے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیدگئی رجسٹریشن پوائنٹ پر اب تک شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے چار لاکھ چوّن ہزار دو سو سات افراد کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔یہ افراد چھتیس ہزار پانچ سو چودہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران کسی علاقے میں فوجی کارروائی کے بعد آبادی کا یہ سب سے بڑا انخلاء ہے۔

پاک فوج نے بے گھر ہونے والے ان افراد میں خوراک کی تقسیم کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا میں چھے پوائنٹس قائم کیے ہیں۔ان میں سے تین ضلع بنوں ،دو ڈیرہ اسماعیل خان اور ایک ضلع ٹانک میں بنایا گیا ہے۔ان پوائنٹس پر بدھ سے بے گھر افراد میں آٹے کے تھیلے،کھانا پکانے کا تیل ،دالیں ،کھجوریں اور خوراک کی دوسری اشیاء پیکٹوں کی شکل میں تقسیم کی جائیں گی۔