.

پاکستان ٹیلی ویژن کے ایم ڈی کا تقرر منسوخ

اسلام آباد ہائی کورٹ کی حکومت کو میرٹ کے مطابق نیا ایم ڈی مقرر کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک (پی ٹی وی) کے مینجنگ ڈائریکٹر(ایم ڈی) محمد مالک کو عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کا تقررنامہ منسوخ کردیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی مصطفیٰ کمال نے صحافی اور اینکرپرسن محمد مالک کے تقرر کو چیلنج کیا تھا۔عدالت کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی وزارت اطلاعات محمد مالک کے تقرر کے وقت طے شدہ طریق کار کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی تھی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کمیشن نے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرر کے لیے وزیراعظم میاں نواز شریف کو اپنی سفارشات بھیجی تھیں لیکن انھوں نے ان کو نظرانداز کرتے ہوئے محمد مالک کا پی ٹی وی کے ایم ڈی کے عہدے پر تقرر کردیا حالانکہ لسٹ میں ان کا نام دوسرے نمبر پر تھا۔

اس کے علاوہ محمد مالک کے بارے میں انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ بھی مثبت نہیں تھی اور وہ ایک اشتہاری کمپنی کے مالک کی حیثیت سے ڈیفالٹر قرار پا چکے تھے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکومت کو کمیشن کی سفارشات اور پاکستان ٹیلی ویژن چینل کے وضع کردہ قواعد وضوابط کے مطابق نئے مینجنگ ڈائریکٹر کے تقرر کا حکم دیا ہے۔

درخواست گزار مصطفیٰ کمال نے 7 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں محمد مالک کے تقرر کے خلاف درخواست دائر کی تھی اور اس میں یہ بھی نشان دہی کی تھی کہ موصوف ماسٹر ڈگری کے حامل نہیں ہیں حالانکہ ایم ڈی کے عہدے پر تقرر کے لیے امیدوار کا ماسٹر ڈگری کا حامل ہونا ضروری ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا محمد مالک کے ذمہ اشتہاری ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے ستر لاکھ روپے کی رقم واجب الادا تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن وزارت اطلاعات کے ماتحت سرکاری نشریاتی ادارہ ہے اور اس کے اہم عہدوں پر بالعموم برسراقتدار جماعت اپنے ہم نوا صحافیوں اور میڈیا کی شخصیات کا تقرر کرتی ہے تا کہ وہ نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے مقابلے میں اس ادارے کو سنبھالے رکھیں اور افسر تعلقات عامہ کا کردار ادا کرتے ہوئے حکومتی شخصیات کے اچھے بُرے کارناموں کی مدح سرائی کرتے رہیں۔

سابق ادوار حکومت میں دوسرے سرکاری محکموں کی طرح برسر اقتدار سیاسی جماعتوں کے کارکنان یا وزیراطلاعات کے حلقہ نیابت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر پی ٹی وی میں بھرتی کیا جاتا رہا ہے اور ان میں سے زیادہ تر ملازمین گھر بیٹھ کر تن خواہیں وصول کرتے رہے ہیں۔

ہر حکمراں جماعت اپنے ہم خیال صحافیوں کو نوازنے کے لیے بھی پی ٹی وی کو استعمال کرتی ہے اور وہ انھیں پی ٹی وی کے حالات حاضرہ کے پروگراموں کی میزبانی سونپ دیتی ہے یا نیوز اور کرنٹ افئیر کے شعبوں میں بھاری مشاہروں پر بھرتی کرلیتی ہے جس کی وجہ سے نجی میڈیا اداروں سے وارد ہونے والے ان صحافیوں اور پی ٹی وی کے مستقل ملازمین کے درمیان مراعات اور مشاہروں کے معاملے پر چپقلش ہوتی رہی ہے۔

ماضی میں بھی پی ٹی وی کے ملازمین اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر چکے ہیں اور بالعموم عدالتوں نے ان کے حق ہی میں فیصلے دیے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر برسراقتدار جماعت یا اس کے ترجمان وزیراطلاعات صاحب پی ٹی وی کے علاوہ دوسرے سرکاری نشریاتی اور خبررساں اداروں ریڈیو پاکستان اور ایسوسی ایٹڈ پریس وغیرہ میں میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر اپنے من پسند افراد کا تقرر اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا دور اس حوالے سے یادگار رہا تھا اور اس نے ان اداروں کے ہر اہم عہدے پر جماعت کے جیالوں کو لگا دیا تھا اور اپنے حامی صحافیوں کو بھی بیش قیمت پلاٹوں سے لے کر وزارت اطلاعات کے خفیہ اکاؤنٹس سے رقوم کی ادائی تک خوب نوازا تھا۔