.

ضربِ عضب: شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک بھی ہدف

پاک فوج کی ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ کے بازار میں زمینی کارروائی کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے پہلی مرتبہ اعلان کیا ہے کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب میں حقانی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ،میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جمعرات کو جنرل ہیڈکوارٹرز راول پنڈی میں آپریشن کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دی ہے اور بتایا ہے کہ ''فوج کے نزدیک کالعدم تحریک طالبان پاکستان یا حقانی نیٹ ورک کے درمیان کوئی تمیز نہیں ہے اور تمام دہشت گرد گروپوں کا صفایا کیا جائے گا''۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک پاک فوج کی کارروائی میں تین سو ستائیس دہشت گرد مارے جاچکے ہیں اور دس سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔انھوں نے شمالی وزیرستان میں ازبک اور دوسرے غیرملکی جنگجوؤں کی بڑی تعداد کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان تمام لوگوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔انھوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کے پینتالیس ٹھکانوں کو تباہ کیا جاچکا ہے۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ ''پاکستان آرمی نے افغان فوج سے شمالی صوبوں کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کی کمین گاہوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے لیکن ابھی تک افغان فوج نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ آپریشن ضرب عضب صرف پاک فوج کررہی ہے اور امریکی فوج اس کارروائی میں شریک نہیں ہے کیونکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز اس طرح کی کارروائیوں کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا تھا اور ملک میں خودکش حملوں کی منصوبہ بندی وہیں سے کی جاتی تھی۔

پاک فوج کے ترجمان اعلیٰ نے اس تاثر کی بھی تردید کی ہے کہ آپریشن سیاسی قیادت کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا ہے۔اںھوں نے کہا کہ ضرب عضب کارروائی کا فیصلہ سیاسی سطح پر ہی کیا گیا تھا۔

زمینی کارروائی

قبل ازیں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ پاکستان آرمی نے شمالی وزیرستان میں جمعرات کی صبح چھے بجے جنگجوؤں کے خلاف ٹینکوں اور توپ خانے کے ساتھ زمینی کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور وہ میران شاہ کے بازار کے داخل ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک آرمی نے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں پہلے فضائی حملوں کے ذریعے جنگجوؤں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے،بمباری سے ان کو کمزور کردیا ہے اور اب وہ ان کی کمین گاہوں میں گھس کر ان کا صفایا کررہے ہیں۔فوجی جوانوں نے میران شاہ بازار میں کئی گھنٹے کے بعد اپنا کنٹرول مستحکم کر لیا ہے۔

15 جون کو آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد سے پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کے ذریعے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے جارہے تھے اور فوج نے زمینی کارروائی تمام شہری آبادی کے انخلاء تک موخر کردی تھی۔اب کم وبیش تمام مقامی لوگوں کے انخلاء کے بعد طالبان جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائی کی جارہی ہے۔گذشتہ دس روز کے دوران چار لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد اپنا گھربار چھوڑ کر صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع یا پڑوسی ملک افغانستان کی جانب چلے گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے اپنا گھربار چھوڑ کر آنےوالے لوگوں نے اس رائے کا بھی اظہار کیا ہے کہ بہت سے جنگجو تو آپریشن کے آغاز سے قبل ہی علاقے سے چلے گئے تھے اور اب صرف بچے کچھے جنگجوؤں ہی کو ٹھکانے لگایا جارہا ہے۔

درایں اثناء جی ایچ کیو میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر رنگین دادفر سپانتا نے پاک آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی ہے اور ان سے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کے تناظر میں سرحدوں پر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی ہے۔