قومی اسمبلی میں تحفظِ پاکستان بل 2014ء منظور

گریڈ 15 کے افسر کی اجازت سے مشتبہ افراد پر گولی چلائی جا سکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے تحفظِ پاکستان بل 2014ء کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سکیورٹی فورسز کے اہلکار گریڈ 15 کے افسر کی اجازت سے مشتبہ افراد کو گولی مار سکیں گے اور مشتبہ افراد کے موبائل فون کے ڈیٹا کو بھی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر زاہد حامد نے بدھ کو وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کی جانب سے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جس کو ایوان میں موجود ارکان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے جبکہ مذہبی سیاسی جماعتوں جمعیت علماء اسلام( فضل الرحمان گروپ) اور جماعت اسلامی نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔

یہ بل اب صدر پاکستان کے دستخطوں کے بعد قانون بن جائے گا کیونکہ ایوان بالا سینیٹ پہلے ہی اس کی منظوری دے چکا ہے۔اس بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پاکستان کے خلاف جنگ مسلط کرنے والوں اور اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کے لیے اضافی اختیارات مل گئے ہیں۔

وفاقی وزیر زاہد حامد نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نے بل سے متعلق تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کی ہے تاکہ ان کے تحفظات دور کیے جاسکیں اور اس نے سینیٹ میں اس بل کی منظوری سے قبل ہی حزب اختلاف کی جماعتوں کی سفارشات کے مطابق اس میں ترامیم کردی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ بل کی منظوری سے حکومت کی جانب سے مسلح افواج کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اس کے ساتھ کھڑی ہے۔حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے بل کے حق میں ووٹ دیا ہے۔تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو تحفظِ پاکستان بل پر تحفظات ہیں لیکن وہ اس کے باوجود ہر قیمت پر سکیورٹی فورسز کی حمایت کرے گی۔

اس بل میں ''اجنبی دشمن'' کو ایک جنگجو قرار دیا گیا ہے جس کی پاکستانی کے طور پر شناخت یقینی نہیں ہے۔اس میں جنگجو کی تعریف یہ کی گئی ہے:'' جو کوئی شخص بھی پاکستان کے خلاف جنگ مسلط کرے گا،پاکستان ،اس کے شہریوں ،مسلح افواج یا سول آرمڈ فورسز کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا یا ہتھیار اٹھانے کی حوصلہ افزائی کرے گا یا پاکستان کے خلاف متشدد جدوجہد کرے گا یا فوجداری جرم کا ارتکاب کرے گا یا اس کی دھمکی دے گا یا پاکستانی کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک تشدد کی کارروائی کرے گا تو وہ جنگجو کہلائے گا''۔

اس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی جگہ پر وارنٹ گرفتاری کے بغیر جانے ،وہاں تلاشی لینے اور آتشیں اسلحہ اور گاڑی وغیرہ کو قبضے میں لینے،کسی مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے اور کسی بھی فوجداری جرم میں استعمال ہوسکنے والے آلات کو قبضے میں لینے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔تاہم تلاشی کی کارروائی کرنے والے افسر کو قبضے میں لی گئی اشیاء کی دو روز میں اسپیشل جوڈیشیل مجسٹریٹ کو اطلاع دینا ہوگی۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے یا پولیس کا گریڈ پندرہ یا اس سے بالا گریڈ کا افسر مشتبہ شخص کو گولی مارنے کا حکم دے سکے گا۔ تاہم اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں مشتبہ دہشت گردوں پر فائرنگ کرتے ہیں تو حکومت اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دینے کی پابند ہوگی۔واضح رہے کی مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس شق کی سب سے زیادہ مخالفت کی ہے۔

نئے قانون کے تحت ماتحت عدالت سے سزایافتہ شخص عدالت عالیہ میں نظرثانی کی اپیل دائر کرسکے گا۔اس سے قبل سزایافتہ شخص کو صرف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا تھا۔قانون میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ مشتبہ افراد کے خلاف دہشت گردی کی کسی کارروائی کے ارتکاب یا اس کی سازش میں ملوث ہونے پر موبائل فون کے ڈیٹا کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا جا سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں