پاک فوج آپریشن: طالبان نے بال اور داڑھیاں ترشوا دیں

صرف ایک حجام نے 700 عسکریت پسندوں کے بال اور داڑھیاں کاٹیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاک فوج کے شمالی وزیرستان میں ماہ جون کے وسط سے جاری آپریشن کے باعث پچھلے ہفتے کے دوران سینکڑوں عسکریت پسندوں نے نئے انداز سے بال ترشواتے ہوئے بھیس بدل لیا ہے۔ اس امر کا انکشاف اس وقت ہوا جب نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں نے عسکریت پسندوں کے تسلط میں اپنی بپتائیں سنائیں اور عسکریت پسندوں کی پر تعیش بودو باش اور ذوق کے بارے میں بتایا۔

شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ کے حجاموں میں سے ایک اہم حجام اعظم خان ہے۔ اسے بھی نقل مکانی کرنے والے دیگر پانچ لاکھ افراد کی طرح آپریشن کے متاثرین میں شامل ہونا پڑا ہے۔ اس کے بقول آپریشن سے اس کا کاروبار میں غیر معمولی تیزی آگئی ہے۔ کہ آپریشن کی وجہ سے عسکریت پسندوں کو اپنے منفرد قسم کے لمبے بال اور داڑھیوں کو ترشوانا پڑا۔

اعظم خان کے بقول اس نے آپریشن کے شروع ہونے کے بعد تقریبا سات سو مقامی اور ازبک عسکریت پسندوں کے بال تراشے ہیں۔ بنوں جس کی طرف پناہ گزینوں کی بڑی تعداد آ رہی ہے اسی بنوں میں اپنی باربر شاپ پر کام کرتے ہوئے اس نے کہا اس نے چار سال تک طالبان کمانڈروں کے بالوں کو نومبر 2013 میں مارے جانے والے حکیم اللہ محسود کے بالوں کا رنگ ڈھنگ دینے کے لیے ان کے بال تراشے ہیں۔

لیکن اب انہی عسکری رہنماوں نے اس کے پاس آ کر کہا کہ ''ہماری داڑھیاں تراش دو کیونکہ ہمیں خلیجی ممالک جانا ہے اور ہم پاکستان کے ائیر پورٹس پر کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہونا چاہتے ہیں۔''

واضح رہے پاکستان کی مسلح افواج نے طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف 15 جون کو آپریشن شروع کیا تھا تاکہ قبائلی عللاقوں میں عسکریت پسندوں کے موجود مضبوط گڑھ ختم کر سکے۔ ان قبائلی علاقوں کے لوگوں کو سالہا سال تک عسکریت پسندوں کی طرف سے اغواء برائے تاوان کرنے کے واقعات اور خوف کا سامنا رہا ہے۔

ایک دکاندار نے کہا '' ایک طرف عسکری کمانڈرز 300 روپے ماہانہ ٹیک مانگتے تھے اور دوسری جانب وہ غیر ملکی خوشبیات، شیمپوز اور صابن وغیرہ خریدنے کے شوقین ہوتے تھے۔

اعظم خان کے مطابق طالبانی کمانڈرز کو ترکی اور فرانس کی خوشبویات، باڈی سپرے اور صابنوں میں غیر معمولی دلچسپی ہوتی تھی۔ تھوک میں اشیاء کا کاروبار کرنے والے ظریف نامی ایک تاجر نے بتایا عسکریت پسند دبئی سے سمگل ہو کر پہنچنے والے برطانوی صابنوں اور امریکی کوکنگ آئل کو بہت پسند کرتے تھے۔

دوسری جانب پاک فوج نے ہر گروپ اور رنگ کے عسکریت پسندوں کے صفائے کے عزم کا اعداہ کیا ۔ اب تک اس آپریشن کے دوران فوج چار سو عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ ان کے ٹھکانے تباہ کر چکی ہے۔ اس آپریشن کے اثرات طویل عرصے تک ہونے کا امکان ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اس آپریشن کے بعد حقانی نیٹ ورک کا مستقبل کیا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں